Sahir Ludhianvi
میں پل دو پل کا شاعر ہوں
8 مارچ ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر ساحر لدھیانوی کا یوم پیدائش ہے۔
8 مارچ 1921 کو لدھیانہ، پنجاب، انڈیا میں پیدا ہونے والے ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی تھا۔ ساحر والدین کی اکلوتی نرینہ اولاد تھے۔ لیکن انہیں بچپن میں اپنے اور اپنی والدہ کے ساتھ والد کا تلخ رویہ برداشت کرنا پڑا، جلد ہی انہیں اپنے ننھیال آ کر رہنا پڑا۔ اگرچہ ان کے ماموؤں نے ان کی مالی و معاشی سرپرستی میں کوئی کمی نہ رہنے دی لیکن ان حالات نے ساحر کے اندر کے باغی کو جنم دیا۔ اور وہ ہر ظالم سامراج کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں جا شامل ہوا۔
ساحر نے اپنی ابتدائی تعلیم خالصہ سکول سے حاصل کی ۔ وہ گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے نہ صرف اپنی شاعری بلکہ لازوال عشق کا بھی آغاز کیا۔ امرتا پریتم کا یہ عشق بالاخر ان کے کالج سے اخراج کا باعث بنا۔ وہ لاہور اسلامیہ کالج داخل ہوئے تو یہاں سے بھی ترقی پسند نظریات کی وجہ سے جلد ہی انہیں واپس جانا پڑا۔
ساحر نے ہندوستان میں فلم نگری بمبئی کا رخ کیا۔ وہ وقت کی ضرورت جان چکے تھے اور انہیں یہ معلوم ہو چکا تھا کہ اس وقت فلم ہی ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے وہ ایک عام آدمی تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔ لاہور سے آتے ہوئے وہ اپنے ساتھ حمید اختر کو بھی لیتے آئے تھے ۔ بمبئی فلم نگری میں راجہ مہدی علی خان، کرشن چندر ، سعادت حسن منٹو، علی سردار جعفری ، کیفی اعظمی، مجروح سلطان پوری ، میرا جی ، پریم ناتھ، وشوا متر عادل ، سرلا دیوی ، صفدر میر اور اوپندر ناتھ اشک جیسے ساتھیوں میں ساحر لدھیانوی نے نہ صرف اپنی ایک منفرد پہچان بنائی بلکہ جیسی مقبولیت انہیں حاصل ہوئی اور کسی کو حاصل نہ ہو سکی۔
ساحر نے اپنی ابتدائی تعلیم خالصہ سکول سے حاصل کی ۔ وہ گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے نہ صرف اپنی شاعری بلکہ لازوال عشق کا بھی آغاز کیا۔ امرتا پریتم کا یہ عشق بالاخر ان کے کالج سے اخراج کا باعث بنا۔ وہ لاہور اسلامیہ کالج داخل ہوئے تو یہاں سے بھی ترقی پسند نظریات کی وجہ سے جلد ہی انہیں واپس جانا پڑا۔
ساحر نے ہندوستان میں فلم نگری بمبئی کا رخ کیا۔ وہ وقت کی ضرورت جان چکے تھے اور انہیں یہ معلوم ہو چکا تھا کہ اس وقت فلم ہی ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے وہ ایک عام آدمی تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔ لاہور سے آتے ہوئے وہ اپنے ساتھ حمید اختر کو بھی لیتے آئے تھے ۔ بمبئی فلم نگری میں راجہ مہدی علی خان، کرشن چندر ، سعادت حسن منٹو، علی سردار جعفری ، کیفی اعظمی، مجروح سلطان پوری ، میرا جی ، پریم ناتھ، وشوا متر عادل ، سرلا دیوی ، صفدر میر اور اوپندر ناتھ اشک جیسے ساتھیوں میں ساحر لدھیانوی نے نہ صرف اپنی ایک منفرد پہچان بنائی بلکہ جیسی مقبولیت انہیں حاصل ہوئی اور کسی کو حاصل نہ ہو سکی۔
قیام پاکستان کے بعد ساحر اپنی والدہ کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے۔ تاہم جلد ہی انہیں والدہ کے انتقال کا صدمہ سہنا پڑا۔ ساحر کو اپنی والدہ سے بے پناہ محبت تھی ، والدہ کی وفات کے بعد وہ دل برداشتہ ہو کر ہندوستان واپس چلے گئے۔ اور ایک بار پھر بمبئی فم نگری پر راج کرنے لگے۔ 25 اکتوبر 1980 کو ممبئی، ہندوستان میں یہ خوبصورت شاعر ہمیشہ کے لیے داعی ملک عدم ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب کلام
٭٭٭٭٭٭٭٭
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب کلام
٭٭٭٭٭٭٭٭
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
بربادیوں کا سوگ منانا فضول تھا
بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا
بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا
جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا
جو کھو گیا میں اس کو بھلاتا چلا گیا
جو کھو گیا میں اس کو بھلاتا چلا گیا
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
![]() |
| Sahir Ludhianvi |

No comments:
Post a Comment