نوشی گیلانی
14 مارچ اردو ادب کے رومانوی لہجے کی خوبصورت شاعرہ نوشی گیلانی کا یوم پیدائش ہے ۔
14 مارچ 1964 کو پاکستان کے شہر بہاولپور کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہونے والی نوشی گیلانی کا اصل نام نشاط مسعود ہے۔ نوشی کے والد ایک ڈاکٹر تھے اور اپنے بچوں کو بھی اسی میدان میں دیکھنا چاہتے تھے۔ تاہم نوشی نے اپنے لیے الگ راستوں کا انتخاب کیا اور ان کے والد نے اس راستے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔ نوشی نے تعلیم بہاولپور سے ہی حاصل کی اور تعلیم کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک مقامی کالج میں استاد کی حیثیت سے کیا۔ شاعری کا شوق بچپن سے ہی ان کے ساتھ تھا۔ بہاولپور جیسے روایتی اور قدامت پسند شہر میں ایک لڑکی کا روایات سے ہٹ کر یوں حسن و عشق کے اشعار لکھنا کسی جرم سے کم نہیں تھا۔ نوشی کو بھی کافی ناساگار حالات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی پرچھائیاں ان کی شاعری میں جابجا ملتی ہیں، لیکن نوشی نے الفاظ کا یہ خوبصورت سفر ترک نہیں کیا۔ اور معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف آواز بلند رکھی۔
نوشی نے اردو ادب اور شاعری سے محبت رکھنے والوں کو بہت خوبصورت تخلیقات سے نوازا۔ جن میں "محبتیں جب شمار کرنا" ، "اداس ہونے کے دن نہیں ہیں"، "پہلا لفظ محبت لکھا"، اور "ہم تیرا انتظار کرتے رہے" شامل ہیں۔
نوشی نے اردو ادب اور شاعری سے محبت رکھنے والوں کو بہت خوبصورت تخلیقات سے نوازا۔ جن میں "محبتیں جب شمار کرنا" ، "اداس ہونے کے دن نہیں ہیں"، "پہلا لفظ محبت لکھا"، اور "ہم تیرا انتظار کرتے رہے" شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب کلام
٭٭٭٭٭٭٭٭
تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی
خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی
جانتے ہیں کہ یقیں ٹوٹ رہا ہے دل پر
پھر بھی اب ترک یہ وحشت نہیں کی جا سکتی
حبس کا شہر ہے اور اس میں کسی بھی صورت
سانس لینے کی سہولت نہیں دی جا سکتی
روشنی کے لیے دروازہ کھلا رکھنا ہے
شب سے اب کوئی اجازت نہیں لی جا سکتی
عشق نے ہجر کا آزار تو دے رکھا ہے
اس سے بڑھ کر تو رعایت نہیں دی جا سکتی
![]() |
| نوشی گیلانی |

No comments:
Post a Comment