*قدیر نواز*
تیرہ اپریل انیس سو پچانوے کو خیبر پختونخوا کے مردم خیز ضلع صوابی کے ایک سیاسی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی سکول سے حاصل کی۔ بعد ازاں صوابی یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف فارمیسی کی ڈگری حاصل کی۔ صوابی کے ادبی اور تعلیمی پس منظر رکھنے والے خطہ میں پیدا ہونے والے قدیر نواز بچپن سے ہی ادب کی طرف میلان رکھتے تھے۔ مادری زبان پشتو ہونے کے باوجود ان کا جھکاو آغاز سے ہی اردو کی جانب تھا۔ وقتا فوقتا طبع موزوں کی مناسبت سے طبع آزمائی کرتے رہتے تھے لیکن دو ہزار سولہ میں عارف نسیم فیضی سے رابطہ ہونے کے بعد تسلسل کے ساتھ سخن آرائی شروع کی۔
تخلص کے طور پر اپنے نام قدیر کو ہی استعمال میں لاتے ہیں۔
اردو شعراء میں غالب اور فیض کو پسند کرتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق صوابی کے سرگرم رکن ہونے کے ساتھ ساتھ حلقے کے پریس سیکرٹری کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے ہیں۔
.............................................................
نمونہ کلام:
مجھ سے روٹھا ہے مجھے روز ستانے والا
بزم میں ہے کوئی پھر اس کو منانےوالا
میں نے مہتاب کو ہے آگ اگلتے دیکھا
ہے کوٸی خواب کی تعبیر بتانے والا
آٹھویں سر ہے مرے دوست خموشی جس کی
ہےکوٸی شخص وہی ساز بجانے والا
جس کے ملنے سے میسر ہو میرے دل کو سکون
سامنے آٸے مجھے اُس سے ملانے والا
آٸینہ دیکھ کے ابھرا تھا کبھی جو دل میں
اس حسیں عکس کو ہے کوئی مٹانے والا
![]() |
| قدیر نواز |

No comments:
Post a Comment