صحرائے جنوں میں کوئی چپہ نہیں ملتا
جس پر کہ مرا نقش کف پا نہیں ملتا
جس پر کہ مرا نقش کف پا نہیں ملتا
مجھ سا کوئی مجنوں سر صحرا نہیں ملتا
یہ بات الگ قیس سے شجرہ نہیں ملتا
یہ بات الگ قیس سے شجرہ نہیں ملتا
یوں روز حسینوں سے ملاقات ہے لیکن
جو خواب میں دیکھا تھا وہ چہرہ نہیں ملتا
جو خواب میں دیکھا تھا وہ چہرہ نہیں ملتا
ہوتا ہے مرے پاس تو ہوتا ہے کہیں اور
وہ شخص مجھے سارے کا سارا نہیں ملتا
وہ شخص مجھے سارے کا سارا نہیں ملتا
کس شہر منافق میں نکل آیا ہوں لوگو
جس شہر میں اک شخص بھی "جھوٹا" نہیں ملتا
جس شہر میں اک شخص بھی "جھوٹا" نہیں ملتا
سنتا ہوں کہ اک کھوج میں اب رہتا ہے وہ شخص
سنتا ہوں کہ اس کو کوئی مجھ سا نہیں ملتا
سنتا ہوں کہ اس کو کوئی مجھ سا نہیں ملتا
ڈھونڈا ہے بہت شہروں میں صحراوں میں بن میں
دل کو جو کرے راکھ وہ جلوہ نہیں ملتا
دل کو جو کرے راکھ وہ جلوہ نہیں ملتا
دیوان ہزاروں پڑھے اس شوق میں لیکن
کر دے جو لہو دل کو وہ مصرع نہیں ملتا
کر دے جو لہو دل کو وہ مصرع نہیں ملتا
اب کیسے بجھے ریگ رواں پیاس تمھاری
وہ آبلہ پا اب سر صحرا نہیں ملتا
وہ آبلہ پا اب سر صحرا نہیں ملتا
راہوں پہ مرے دل کی سر شام ہی عارف
یادوں کی ہے وہ بھیڑ کہ رستہ نہیں ملتا
یادوں کی ہے وہ بھیڑ کہ رستہ نہیں ملتا
عارف نسیم فیضی
_

No comments:
Post a Comment