Sunday, 3 March 2019

Urdu Poetry

صحرائے جنوں میں کوئی چپہ نہیں ملتا
جس پر کہ مرا نقش کف پا نہیں ملتا
مجھ سا کوئی مجنوں سر صحرا نہیں ملتا
یہ بات الگ قیس سے شجرہ نہیں ملتا
یوں روز حسینوں سے ملاقات ہے لیکن
جو خواب میں دیکھا تھا وہ چہرہ نہیں ملتا
ہوتا ہے مرے پاس تو ہوتا ہے کہیں اور
وہ شخص مجھے سارے کا سارا نہیں ملتا
کس شہر منافق میں نکل آیا ہوں لوگو
جس شہر میں اک شخص بھی "جھوٹا" نہیں ملتا
سنتا ہوں کہ اک کھوج میں اب رہتا ہے وہ شخص
سنتا ہوں کہ اس کو کوئی مجھ سا نہیں ملتا
ڈھونڈا ہے بہت شہروں میں صحراوں میں بن میں
دل کو جو کرے راکھ وہ جلوہ نہیں ملتا
دیوان ہزاروں پڑھے اس شوق میں لیکن
کر دے جو لہو دل کو وہ مصرع نہیں ملتا
اب کیسے بجھے ریگ رواں پیاس تمھاری
وہ آبلہ پا اب سر صحرا نہیں ملتا
راہوں پہ مرے دل کی سر شام ہی عارف
یادوں کی ہے وہ بھیڑ کہ رستہ نہیں ملتا
 عارف نسیم فیضی
_ 

No comments:

Post a Comment