*Urdu Poetry*
آج اک راز کھلا ہے یہ بھی
یوں جیوں، ایک سزا ہے یہ بھی
خود کو بھی چھوڑ چکا ہوں پیچھے
حادثہ ایک ہوا ہے یہ بھی
جانے کب کوئی بچھڑ کر رہ جائے
ایک خدشہ سا رہا ہے یہ بھی
تیری فرقت میں جیوں اور مروں
ایک اندازِوفا ہے یہ بھی
کسی خواہش کی کوئی عمر نہیں
تجربہ تلخ ہوا ہے یہ بھی
جو ملا حسبِ تمنا نہ ملا
زیست میں ایک خلا ہے یہ بھی
ہر حسیں چہرے کو آنکھوں سے چھوؤں
عمر بھر کام کیا ہے یہ بھی
تجھ کو دنیا کا بھی رہنے نہ دیا
مجھ سے دنیا کو گلہ ہے یہ بھی
اس کی بربادی بھی روحی دیکھوں
اپنی قسمت میں لکھا ہے یہ بھی
~ روحی کنجاہی ~
.....
No comments:
Post a Comment