Urdu Prose
انجانے لوگ
انجانے لوگ
تحریر: Dia
تحریر: Dia
اسے ٹیکسی کا انتظار تھا۔ جنوری کی یخ بستہ ہوا اس کی گردن اور چہرے کو کاٹتی تھی۔ اس نے مفلر کو اپنے کانوں کے گرد احتیاط سے لپیٹا اور اوورکوٹ کے کالر کو اپنی گردن کے اردگرد پھیلا دیا۔
سڑک کے دونوں اطراف خاموشی تھی ۔ مدھم روشنی میں ٹریفک کی لال، پیلی، نیلی لکیریں روشن اور ابھری ابھری دکھائی دے رہی تھیں ۔ کبھی کبھی کوئی گاڑی تیزی سے گزر جاتی، یا پھر بدمست نوجوانوں کی ہاؤ ہو سے ماحول میں ایک دم ارتعاش پیدا ہو جاتا۔
رات خاصی بیت چکی تھی ۔ اسے ٹیکسی کا انتظار تھا۔ وہ اپنے آبائی شہر میں بھی اتنی دیر گھر سے باہر رہنے کا عادی نہ تھا۔ اس کی ماں بےچینی سے اس کی واپسی کا انتظار کرتی۔
'حامد بیٹا ۔۔۔۔ دیر مت کرنا ۔۔۔۔ میرا دل بیٹھنے لگتا ہے ۔' اور اب اس اجنبی شہر میں بھی وہ شام ڈھلتے ہی اپنے اپارٹمنٹ میں بند ہو رہتا۔
وہ آج دوسرے شہر سے سفر کر کے پہنچا تھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا وقت ختم ہو چکا تھا ۔
'صاحب چلو گے؟ اس کے سامنے یلو کیب رکی۔
سٹیرنگ پر بیٹھا شخص خاصا بھاری بھرکم اور سیاہی مائل تھا۔ ایک کان میں موٹی لٹکتی ہوئی بالی اور سر کے درمیان بالوں کی ایک موٹی سی دیوار بنی ہوئی تھی ۔
'چلو گے۔۔۔۔؟' اس نے ایک بار پھر زور دے کر پوچھا ۔
'نہیں۔۔۔۔۔'
ڈرائیور نے اس کی طرف غور سے دیکھا ۔ ناک سکیڑا اور مسکرایا۔ اس کے ٹُوٹے بے ربط دانتوں کے درمیان فاصلہ تھا۔
حامد سہم سا گیا۔
سردی بڑھتی جارہی تھی ۔ شاید کہیں دور برف باری ہو رہی تھی ۔ کبھی کبھی پتوں کی سرسراہٹ سے اس کے سینہ میں خوف کی لہر دوڑنے لگتی، سامنے اونچے فلیٹوں کی روشنیاں آہستہ آہستہ بجھتی جا رہی تھیں ۔
اس کو ٹیکسی کا انتظار تھا ۔
'چلو گے؟ ' وہ سانولا، دبلا پتلا ڈرائیور تھا۔ بالکل اکہرے جسم کا۔ ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دہشت کی لکیریں نہ تھیں ۔ حامد تیزی سے ٹیکسی کی طرف بڑھا ۔ وہ سیٹ کے بائیں کونے میں جا بیٹھا اور ہولے ہولے آیت الکرسی کا ورد کرنے لگا۔
'کہاں چلو گے؟ '
'آک لینڈ'
حامد ڈرائیور کا مکمل طور پر جائزہ لینے لگا۔ اس کی گردن خاصی لمبی تھی۔ کندھے نحیف اور پتلے۔ اس کا قد پانچ فٹ چھ انچ سے زیادہ نہ ہو گا ۔ٹیکسی والے کی جسمانی حالت یقینآٓ اس سے کمتر تھی۔ دست بدست مقابلہ کی صورت میں اس پر قابو پایا جا سکتا تھا۔
ڈرائیور نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ حامد ایک دم الرٹ ہو گیا ۔ اس نے اپنے بریف کیس کو مضبوطی سے تھام لیا۔ بریف کیس اس کے لیے ایک ہتھیار کا کام دے سکتا تھا۔
اگر کچھ ہوا تو پوری قوت سے ڈرائیور کے سر پر زبردست ضرب لگا دے گا۔
آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟
میکسیکو ۔۔۔
حامد نے دانستہ طور پر جھوٹ بولا تھا ۔
اسے پتا تھا یہاں کے ڈرائیور میکسیکو کے باسیوں سے خائف رہتے ہیں ۔
کب سے اس شہر میں ہو؟
پورے سات سال سے ۔۔۔
اس نے ایک اور جھوٹ داغ دیا ۔وہ تو چھ ہفتے پہلے ہی اس شہر میں وارد ہوا تھا ۔
ڈرائیور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگا۔ اس کی آواز نرم تھی۔ اس کے لہجے میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ اور لکنت تھی۔
دیکھو ۔۔۔ تم بنک سکوائر کی بجائے شیر والے پُل کے راستے سے چلو ۔
حامد ڈرائیور پر واضح کرنا چاہتا تھا کہ وہ کوئی اجنبی نہیں ۔ بلکہ وہ شہر کے حدوداربعہ اور راستوں سے مکمل طور پر آگاہی رکھتا ہے ۔
ڈرائیور نے ایک دفعہ پھر گردن گھما کر اس کی جانب دیکھا ۔ حامد ایک عقاب کی طرح ڈرائیور کی تمام حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔
بچپن میں اس کے کزن فرید نے اس کو ایک بار بتایا تھا کہ مقابلے کی صورت میں مدِمقابل کی ناک کو ہاتھوں سے دبا کر بڑی آسانی سے زیر کیا جا سکتا ہے۔ آج حامد کو اپنے آپ پر خاصا غصہ آ رہا تھا ۔ اس کے کزن نے کئی بار اس سے کہا تھا بھئی جوڈو کراٹے سیکھ لو۔ یہ آرٹ مشکل حالات میں کام آ جاتا ہے ۔
ٹیکسی تیزی سے بھاگی جا رہی تھی ۔ ڈرائیور نے اچانک ڈیش بورڈ کو کھولا۔
ایسا کیوں؟
حامد چوکنّا ہو گیا ۔ شاید وہ کوئی پستول یا موزر نکال رہا ہو۔
حامد نے دونوں ہاتھوں سے بریف کیس کو مضبوطی سے اٹھا لیا ۔ اور اپنی چھاتی کو ڈھانپ لیا ۔
ڈرائیور نے ڈیش بورڈ میں سے چھوٹی سی ہلکے نیلے کور میں لپٹی ہینڈ بک نکالی۔ وہ اس کو اپنے چہرے کے قریب لے گیا اور پھر ہینڈ بک کو بڑی عقیدت سے اندر والی جیب میں سنبھال لیا ۔ انہوں نے شیر والا پُل عبور کر لیا تھا ۔ حامد کی منزل اب قریب ہی تھی ۔ ٹیکسی اب چھوٹی سڑک پر تھی۔ دونوں جانب کھڑے لمبے درختوں کی وجہ سے سکوت اور تاریکی کا احساس بڑھ گیا تھا ۔
ڈرائیور نے اضطرابی طور پر دائیں بائیں دیکھا۔ وہ کچھ گنگنانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ منزل قریب تھی مگر حامد ایک سپاہی کی طرح مستعد بیٹھا تھا ۔ اس شہر میں رات کے اس پہر کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ ہر روز انہونے واقعات ہوتے رہتے تھے ۔
ٹیکسی کالونی میں داخل ہو گئی ۔ حامد کا فلیٹ نچلی منزل پر تھا۔ کالونی میں چاروں اطراف ایک ہی طرز کے چھ منزلہ فلیٹ بنے ہوئے تھے۔کالونی کے درمیان کھلے میدان میں بتیاں جل رہی تھیں ۔ چار پانچ لڑکے بیئر کی خالی بوتلیں ہاتھوں میں تھامے جھوم رہے تھے ۔ یہ اس کالونی کے من چلے لونڈے تھے۔ حامد کا دل اب بےقابو نہ تھا ۔
بس رک جاؤ ۔
بارہ ڈالر۔۔
حامد حیران تھا ۔ رات کے اس پہر کوئی بھی ڈرائیور تیس چالیس ڈالر سے کم کرائے پر راضی نہ ہوتا۔ اس نے پندرہ ڈالر اس کو تھما دئیے۔
''یہ رہے آپ کے تین ڈالر۔''
''نہیں یہ تم رکھو۔''
''شکریہ۔۔۔''
ڈرائیور کی آنکھوں میں ایک عجیب سی معصومیت تھی۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور کالونی سے باہر نکل گیا۔
حامد نے دیکھا۔ ڈرائیور کی ہینڈبک فرش پر گری پڑی تھی۔ اس نے ہینڈبک اٹھا کر دیکھی۔ یہ بائبل تھی اور اس کے اندر ایک بوڑھی خاتون کی تصویر۔۔ ڈیوڈ سموئیل۔
ڈیوڈ سموئیل کی تصویر کے نیچے لکھا تھا۔
'سموئیل۔۔ یسوع مسیح ہمیشہ تجھے اپنی پناہ میں رکھے۔'
چند ہی لمحے بعد ٹیکسی والا دوبارہ آن پہنچا۔ ''یہاں سے میری کوئی چھوٹی کتاب تو نہیں ملی۔''
''ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ یہ رہی ۔۔۔ ''
''یہ تو بائبل ہے ۔۔ اس میں تمہاری ماں کی تصوہر ۔۔۔''
''ہاں وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے ۔'' اس نے ہینڈ بک ڈرائیور کو تھما دی۔
'ٹھہرو۔۔۔۔'' اس نے اپنی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک چھوٹی سی کتاب نکالی۔
'دیکھو یہ ہماری مقدس کتاب ہے ۔۔ اس میں میری ماں کی تصویر اور یہ رہی میری تصویر ۔۔۔
دیکھو ۔۔۔ اس پر لکھا ہے ۔۔ "خدا تمہیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔"
سموئیل نے زور سے قہقہہ لگایا ۔ اس کی آواز میں اطمینان اور لہجے میں سکون تھا۔
''تم ۔۔۔ میں ۔۔۔ ہم دونوں ۔۔۔ " وہ چمکتی آنکھوں سے مسکرایا۔
"میرا نام سموئیل ہے۔۔۔ ڈیوڈ سموئیل ۔"
"اور میں حامد ہوں ۔۔ محمد حامد فرام لاہور ۔۔۔ پاکستان ۔۔۔ اور میں فلیٹ نمبر 207 سب سے نچلی منزل میں رہتا ہوں ۔
دوست، میں کسی شام تم سے ضرور ملنے آؤں گا۔ اپنی ماں سے میرا سلام کہنا۔"
اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور گنگناتا ہوا کالونی سے باہر نکل گیا۔
سڑک کے دونوں اطراف خاموشی تھی ۔ مدھم روشنی میں ٹریفک کی لال، پیلی، نیلی لکیریں روشن اور ابھری ابھری دکھائی دے رہی تھیں ۔ کبھی کبھی کوئی گاڑی تیزی سے گزر جاتی، یا پھر بدمست نوجوانوں کی ہاؤ ہو سے ماحول میں ایک دم ارتعاش پیدا ہو جاتا۔
رات خاصی بیت چکی تھی ۔ اسے ٹیکسی کا انتظار تھا۔ وہ اپنے آبائی شہر میں بھی اتنی دیر گھر سے باہر رہنے کا عادی نہ تھا۔ اس کی ماں بےچینی سے اس کی واپسی کا انتظار کرتی۔
'حامد بیٹا ۔۔۔۔ دیر مت کرنا ۔۔۔۔ میرا دل بیٹھنے لگتا ہے ۔' اور اب اس اجنبی شہر میں بھی وہ شام ڈھلتے ہی اپنے اپارٹمنٹ میں بند ہو رہتا۔
وہ آج دوسرے شہر سے سفر کر کے پہنچا تھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا وقت ختم ہو چکا تھا ۔
'صاحب چلو گے؟ اس کے سامنے یلو کیب رکی۔
سٹیرنگ پر بیٹھا شخص خاصا بھاری بھرکم اور سیاہی مائل تھا۔ ایک کان میں موٹی لٹکتی ہوئی بالی اور سر کے درمیان بالوں کی ایک موٹی سی دیوار بنی ہوئی تھی ۔
'چلو گے۔۔۔۔؟' اس نے ایک بار پھر زور دے کر پوچھا ۔
'نہیں۔۔۔۔۔'
ڈرائیور نے اس کی طرف غور سے دیکھا ۔ ناک سکیڑا اور مسکرایا۔ اس کے ٹُوٹے بے ربط دانتوں کے درمیان فاصلہ تھا۔
حامد سہم سا گیا۔
سردی بڑھتی جارہی تھی ۔ شاید کہیں دور برف باری ہو رہی تھی ۔ کبھی کبھی پتوں کی سرسراہٹ سے اس کے سینہ میں خوف کی لہر دوڑنے لگتی، سامنے اونچے فلیٹوں کی روشنیاں آہستہ آہستہ بجھتی جا رہی تھیں ۔
اس کو ٹیکسی کا انتظار تھا ۔
'چلو گے؟ ' وہ سانولا، دبلا پتلا ڈرائیور تھا۔ بالکل اکہرے جسم کا۔ ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دہشت کی لکیریں نہ تھیں ۔ حامد تیزی سے ٹیکسی کی طرف بڑھا ۔ وہ سیٹ کے بائیں کونے میں جا بیٹھا اور ہولے ہولے آیت الکرسی کا ورد کرنے لگا۔
'کہاں چلو گے؟ '
'آک لینڈ'
حامد ڈرائیور کا مکمل طور پر جائزہ لینے لگا۔ اس کی گردن خاصی لمبی تھی۔ کندھے نحیف اور پتلے۔ اس کا قد پانچ فٹ چھ انچ سے زیادہ نہ ہو گا ۔ٹیکسی والے کی جسمانی حالت یقینآٓ اس سے کمتر تھی۔ دست بدست مقابلہ کی صورت میں اس پر قابو پایا جا سکتا تھا۔
ڈرائیور نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ حامد ایک دم الرٹ ہو گیا ۔ اس نے اپنے بریف کیس کو مضبوطی سے تھام لیا۔ بریف کیس اس کے لیے ایک ہتھیار کا کام دے سکتا تھا۔
اگر کچھ ہوا تو پوری قوت سے ڈرائیور کے سر پر زبردست ضرب لگا دے گا۔
آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟
میکسیکو ۔۔۔
حامد نے دانستہ طور پر جھوٹ بولا تھا ۔
اسے پتا تھا یہاں کے ڈرائیور میکسیکو کے باسیوں سے خائف رہتے ہیں ۔
کب سے اس شہر میں ہو؟
پورے سات سال سے ۔۔۔
اس نے ایک اور جھوٹ داغ دیا ۔وہ تو چھ ہفتے پہلے ہی اس شہر میں وارد ہوا تھا ۔
ڈرائیور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگا۔ اس کی آواز نرم تھی۔ اس کے لہجے میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ اور لکنت تھی۔
دیکھو ۔۔۔ تم بنک سکوائر کی بجائے شیر والے پُل کے راستے سے چلو ۔
حامد ڈرائیور پر واضح کرنا چاہتا تھا کہ وہ کوئی اجنبی نہیں ۔ بلکہ وہ شہر کے حدوداربعہ اور راستوں سے مکمل طور پر آگاہی رکھتا ہے ۔
ڈرائیور نے ایک دفعہ پھر گردن گھما کر اس کی جانب دیکھا ۔ حامد ایک عقاب کی طرح ڈرائیور کی تمام حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔
بچپن میں اس کے کزن فرید نے اس کو ایک بار بتایا تھا کہ مقابلے کی صورت میں مدِمقابل کی ناک کو ہاتھوں سے دبا کر بڑی آسانی سے زیر کیا جا سکتا ہے۔ آج حامد کو اپنے آپ پر خاصا غصہ آ رہا تھا ۔ اس کے کزن نے کئی بار اس سے کہا تھا بھئی جوڈو کراٹے سیکھ لو۔ یہ آرٹ مشکل حالات میں کام آ جاتا ہے ۔
ٹیکسی تیزی سے بھاگی جا رہی تھی ۔ ڈرائیور نے اچانک ڈیش بورڈ کو کھولا۔
ایسا کیوں؟
حامد چوکنّا ہو گیا ۔ شاید وہ کوئی پستول یا موزر نکال رہا ہو۔
حامد نے دونوں ہاتھوں سے بریف کیس کو مضبوطی سے اٹھا لیا ۔ اور اپنی چھاتی کو ڈھانپ لیا ۔
ڈرائیور نے ڈیش بورڈ میں سے چھوٹی سی ہلکے نیلے کور میں لپٹی ہینڈ بک نکالی۔ وہ اس کو اپنے چہرے کے قریب لے گیا اور پھر ہینڈ بک کو بڑی عقیدت سے اندر والی جیب میں سنبھال لیا ۔ انہوں نے شیر والا پُل عبور کر لیا تھا ۔ حامد کی منزل اب قریب ہی تھی ۔ ٹیکسی اب چھوٹی سڑک پر تھی۔ دونوں جانب کھڑے لمبے درختوں کی وجہ سے سکوت اور تاریکی کا احساس بڑھ گیا تھا ۔
ڈرائیور نے اضطرابی طور پر دائیں بائیں دیکھا۔ وہ کچھ گنگنانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ منزل قریب تھی مگر حامد ایک سپاہی کی طرح مستعد بیٹھا تھا ۔ اس شہر میں رات کے اس پہر کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ ہر روز انہونے واقعات ہوتے رہتے تھے ۔
ٹیکسی کالونی میں داخل ہو گئی ۔ حامد کا فلیٹ نچلی منزل پر تھا۔ کالونی میں چاروں اطراف ایک ہی طرز کے چھ منزلہ فلیٹ بنے ہوئے تھے۔کالونی کے درمیان کھلے میدان میں بتیاں جل رہی تھیں ۔ چار پانچ لڑکے بیئر کی خالی بوتلیں ہاتھوں میں تھامے جھوم رہے تھے ۔ یہ اس کالونی کے من چلے لونڈے تھے۔ حامد کا دل اب بےقابو نہ تھا ۔
بس رک جاؤ ۔
بارہ ڈالر۔۔
حامد حیران تھا ۔ رات کے اس پہر کوئی بھی ڈرائیور تیس چالیس ڈالر سے کم کرائے پر راضی نہ ہوتا۔ اس نے پندرہ ڈالر اس کو تھما دئیے۔
''یہ رہے آپ کے تین ڈالر۔''
''نہیں یہ تم رکھو۔''
''شکریہ۔۔۔''
ڈرائیور کی آنکھوں میں ایک عجیب سی معصومیت تھی۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور کالونی سے باہر نکل گیا۔
حامد نے دیکھا۔ ڈرائیور کی ہینڈبک فرش پر گری پڑی تھی۔ اس نے ہینڈبک اٹھا کر دیکھی۔ یہ بائبل تھی اور اس کے اندر ایک بوڑھی خاتون کی تصویر۔۔ ڈیوڈ سموئیل۔
ڈیوڈ سموئیل کی تصویر کے نیچے لکھا تھا۔
'سموئیل۔۔ یسوع مسیح ہمیشہ تجھے اپنی پناہ میں رکھے۔'
چند ہی لمحے بعد ٹیکسی والا دوبارہ آن پہنچا۔ ''یہاں سے میری کوئی چھوٹی کتاب تو نہیں ملی۔''
''ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ یہ رہی ۔۔۔ ''
''یہ تو بائبل ہے ۔۔ اس میں تمہاری ماں کی تصوہر ۔۔۔''
''ہاں وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے ۔'' اس نے ہینڈ بک ڈرائیور کو تھما دی۔
'ٹھہرو۔۔۔۔'' اس نے اپنی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک چھوٹی سی کتاب نکالی۔
'دیکھو یہ ہماری مقدس کتاب ہے ۔۔ اس میں میری ماں کی تصویر اور یہ رہی میری تصویر ۔۔۔
دیکھو ۔۔۔ اس پر لکھا ہے ۔۔ "خدا تمہیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔"
سموئیل نے زور سے قہقہہ لگایا ۔ اس کی آواز میں اطمینان اور لہجے میں سکون تھا۔
''تم ۔۔۔ میں ۔۔۔ ہم دونوں ۔۔۔ " وہ چمکتی آنکھوں سے مسکرایا۔
"میرا نام سموئیل ہے۔۔۔ ڈیوڈ سموئیل ۔"
"اور میں حامد ہوں ۔۔ محمد حامد فرام لاہور ۔۔۔ پاکستان ۔۔۔ اور میں فلیٹ نمبر 207 سب سے نچلی منزل میں رہتا ہوں ۔
دوست، میں کسی شام تم سے ضرور ملنے آؤں گا۔ اپنی ماں سے میرا سلام کہنا۔"
اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور گنگناتا ہوا کالونی سے باہر نکل گیا۔
![]() |
| Urdu Prose انجانے لوگ |

No comments:
Post a Comment