Sunday, 21 April 2019

Biography

 (صائمہ یوسف زئی (ایک تعارف

تُو میری زیست کا خُلاصہ سُن...
میں کُچھ نہیں“ ہُوں فقط حرفِ کُن...

کبھی کبھی کاسہ ہی کُن ہوتا ہے
کوئی جھولی اِسمِ اعظم لئیے پھیلی نظر آتی ہے
کوئی بے ترتیب دھڑکن وَجدِ کائنات کا سبب تو کوئی آہ بُرّاق بن نکلتی ہے ۔
کبھی کبھی تو ایک آنسُو بِحر وبّر سمیٹ لیتا ہے۔
اُفّ یہ عِجز اُفّ یہ اِکِساری۔
اُفّ یہ زَرّوں کو بھی کثرت میں بدلنے والے۔
مگر کسکا نصیب کیا ہے کون جانتا ہے۔
یہ سعادت بھی حسبِ ظرف حسبِ عطا ہی ملا کرتی ہے۔
میں کیا ہُوں ؟؟
کون ہُوں ؟؟
کیسی ہُوں ؟؟
میری بلا جانے
مُجھے بس کُن سے مطلب ہے
اِسمِ اعظم کی حاجت ہے
کہ دھڑکن پاس ہے میرے
مُسلسل وجد میں ہے جو
فقط اُس آہ کی دیری ہے
جِسے بُرّاق بننا ہے۔

ہم انسان میرے مطابق ان کہکشاؤں کی طرح ہیں جنہیں مُسلسل تِہہ دَر تِہہ دریافت کیلئیے بنایا گیا ہے۔
میری ذات کے بارے میں عجیب یہ ہے کہ میرے اس دنیا میں آنے کے بعد ایک نام نہیں رکھا گیا کوئی مجھے سویرا کہتا ہے کوئی پرچھائیں کسی نے ملکہ نام رکھ چھوڑا تو کوئی صرف گُل پکارنے لگا ۔
خیر مکمل جو نام رکھا گیا صائمہ گُل تھا یوسفزئی اپنی شناخت کے طور پر اپنے قبیلے کا نام میں نے شاعری ار تحریروں کیساتھ لکھنا شروع کر دیا ۔
شاعری کی ابتداء یاد نہیں مگر میرے نانا ایک سادہ لوح صُوفی تھے جنہیں لوگ صُوفی گُلزار کے نام سے جانتے ہیں انکے ساتھ بچپن کے جو سات سال تھے وہ آج تک میرے زہن اور تربیت پر نقش ہیں
انکا کلام کو پڑھنا روتے جانا مجھے کسی لوری کی صُورت سنانا اور ہم دونوں کا مل کر رونا مجھے آج بھی یاد ہے۔
حالانکہ وہ پڑھے لکھے نہ تھے مگر انکے پاس کچھ کتابوں میں سے ایک کتاب تھی اشعار کی جو کہ فارسی میں تھی اور بمع ترجمہ اور تشریح تھی یہی وہ پہلی سیڑھی تھی اور پہلا شعر جو میں نے پڑھا اور جو وجہ بنا میرے اس جانب بڑھنے کا۔
حُسنِ یُوسف دَمِ عیسٰی یَدِ بیضا داری
آنچہ خُوباں ہَمہ دارند تُو تنہا داری

بس اسکا ترجمہ پڑھنا سوچتے جانا کہ رسُول اللّٰہ تمام خُوبیوں کا مجمُوعہ اور مُکمل ہیں پھر نانا سے اس بارے میں پوچھتے رہنا یہی شاید وہ وجہ تھی جس نے مجھے شاعر بنا دیا میں کوئی اچھی شاعرہ یا کام نگار نہیں ہوں مگر کچھ نہ کچھ جو سوچتی ہوں بس لکھ دیتی ہوں نہ میں نے کبھی کوشش کی خود کی تشہیر کی۔
کئی تھیٹر کے ڈائیلاگز اور کئی ڈرامے مگر انکا چرچہ اس لئیے نہیں کرونگی کہ دنیا وہ دیکھتی ہے جو نام کے ساتھ چھپ جائے مجھ سے نو آموز رائیٹرز کے احساسات اکثر کسی اور مضبوط حوالے سے دنیا کی واہ پاتے ہیں۔
بہر حال میرا پہلا شعر میں نے شاید آٹھویں جماعت میں لکھا تھا اور وہ یہ تھا
وہ تیری ذات کے اندر ازل سے ہے تحلیل
تو اسے ڈوب کر پا لے کیوں سرابوں بھاگے

ان پانچ سال سے پہلے کے عرصے میں کبھی شرم سے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہمیشہ اپنی تحریر اور اشعار کے ساتھ MeanLess Khan لکھا
۔مگر ادبی چوری اور کچھ واقعات کے بعد اپنا ایک پیج بنایا اور پوسٹ کرنا شروع کر دیا اپنے نام کے ساتھ۔
میں ایک فیس بُک شاعر اور رائیٹر ہوں کچھ زیادہ اچھی نہیں بس یہی تعارُف ہے میرا اور یہی حقیقت کچھ ملی جلی ٹوٹی پھوٹی تعلیم دنیاوی ڈگری جو میرے پاس ہے وہ ایم ایڈ CCNA میڈیا مائینڈز کا اینکر پرسن وغیرہ کے چند کورسز اور کچھ نا مکمل ڈگریاں جو پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکیں ۔
ہاں زبانوں میں دلچسپی تھی تو کچھ زبانیں جو جانتی ہوں ان میں پنجابی، سرائیکی، پشتو، سندھی وغیرہ شامل ہیں
کچھ عرصہ لیکچررشپ کی کچھ عرصہ اسکول ٹیچنگ اور بس۔
میرے ریزیوم پر اگر دیکھا جائے تو کچھ بھی نہیں۔
سب نا مکمل ہے۔
بطور انسان بطور استاد بطور بیٹی کہنے والے جاننے والے بہتر جانتے ہونگے مجھے کچھ علم نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔ 
Biography
صائمہ یوسف زئی - ایک تعارف

No comments:

Post a Comment