کڑہ مار کا عاشق
تحریر : محمد عارف نسیم فیضی
--
ایک شاعر یا ادیب سے بڑھ کر محبت کو کون سمجھ سکتا ہے- جس طرح محبت کی کوئی انتہا نہیں اسی طرح محبت کے رنگوں اور محبت کی جہتوں کا بھی شمار ممکن نہیں.
انسان کے دل میں محبت کا سمندر موجزن ہو تا ہے اور یہ سمندر کس موقع پر جوش میں آتا ہے اور اپنے ساحل توڑ کر کس طرف لہر در لہر رواں ہوتا ہے اس بارے میں پیش گوئی کرنا ناممکن ہے.
پروفیسر ظاہر شاہ صاحب اپنے دل میں محبت کے ان گنت سمندر رکھتے ہیں اور انہی میں سے ایک سمندر انہوں نے کڑہ مار کے نام منسوب کیا ہوا ہے۔
کڑہ مار صوابی میں موجود ایک پہاڑ کا نام ہے۔ کڑہ مار یوسف خان اور شیر بانو کے مشہور رومانوی لوک داستان کی وجہ سے ایک رومانوی نوعیت کی شہرت کا حامل ہے. یوسف خان کی قبر کڑہ مار کے دامن میں ہی موجود ہے.
کڑہ مار پروفیسر صاحب کے لئے ایک دوست کی حیثیت رکھتا ہے. ایک ایسا دوست جو احساس رکھنے والا ہوتا ہے. دوست کی خوشی اور اداسی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے . جو دوست کی آنکھوں سے اس کے دل کا حال جان سکتا ہے. کڑہ مار ایک باوفا دوست کی طرح صوابی کی زمین پر جم کر کھڑا ہے۔ پروفیسر صاحب زندگی کی بے وفائی کا ذکر کڑہ مار کی وفا کے تناظر میں کچھ یوں کرتے ہیں:
کاش چی جوند ہم د کڑہ مار غوندہ وی
کڑہ مار ولاڑ دے او وختونہ زغلی
:ترجمہ
کاش زندگی بھی کڑہ مار کی طرح ہوتی۔ وقت ہر آن بدل رہا ہے لیکن کڑہ مار اپنی جگہ ایک ہی حال میں کھڑا ہے۔
جب کبھی انسان اداس ہوتا ہے وہ اپنے دوست کی صحبت چاہتا ہے تاکہ اس کے سامنے حال دل کھول سکے. بعینہ پروفیسر صاحب کا بھی جب دل بیقراری کی انتہا کو چھوتا ہے تو وہ کڑہ مار کی طرف لپکتے ہیں. اداس شاموں میں اکثر وہ کڑہ مار کے دامن میں آوارہ گردی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں اور دیکھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ:
بیا پہ سر د کڑہ مار می د ظاہر ٹپہ تر غوگ شوہ
داسی خکاری لیونی نن جوڑی بیا پہ زڑہ غمگین دے
آج پھر کڑہ مار سے ظاہر کے ماہیوں کی آواز آرہی ہے
لگتا ہے آج پھر دیوانے کے دل پر اداسی کے بادل چھائے ہیں
پروفیسر صاحب کو کڑہ مار کی محبت بالکل ماں کی محبت کی طرح خالص نظر آتی ہے. جب بھی وہ زندگی کے کارزار میں تھکن محسوس کرتے ہیں اور آرام کی خواہش ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے تو وہ دنیا کے ہنگاموں سے دور کڑہ مار کی خاموشی میں سکون ڈھونڈتے ہیں
د کڑہ مار د لمن غیگی لہ رازہ ظاہرہ
واڑہ د مور غیگ کی پٹیگی ماخامی رادرومی
ترجمہ:
ظاہر آجاو کڑہ مار کا دامن تمھیں بلا رہا ہے
جب شام کے اندھیرا پھیلنے لگتا ہے تو بچے ماں کی آغوش میں پناہ لیتے ہیں
پھر جب وہ کڑہ مار کے دامن میں پہنچتے ہیں تو یوں خوشی محسوس کرتے ہیں جیسے انسان ایک طویل جدائی کے بعد اپنے محبوب سے ملتا ہے
خوخ یمہ خوخ د کڑہ مار غیگہ کی
لکہ چی پروت یم د دلدار غیگہ کی
ترجمہ :
میں خوش ہوں خوش، کڑہ مار کے دامن میں
جیسے کوئی عاشق پڑا ہوتا ہے اپنے دلدار کے دامن میں
محبت ظاہر کو نہیں دیکھتی جیسے کہ مشہور ہے کہ لیلا کالی تھی لیکن مجنون کو اس سے عشق تھا تو وہ اس کے لے ساری دنیا سے بڑھ کر تھی. اسی طرح پروفیسر صاحب کڑہ مار کے بارے میں کہتے ہیں۔
خدائی خبر سہ جادو پکی دی چی می نہ ہیریگی
زما یادیگی گٹی گٹی کڑہ مار زڑگیہ
ترجمہ:
جانے اس میں کیا فسوں ہے کہ میں اس کو بھلا نہیں پاتا
سنگلاخ کڑہ مار ہر ہر پل میرے دل میں رہتا ہے
اکثر دیکھا گیا ہے کہ انسان کو جس سے بہت محبت ہوتی ہے اس کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھتا ہے. جیسے کہ فراز کہتے ہیں:
اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کے نام رکھ دیئے
پروفیسر صاحب نے بھی کڑہ مار سے اپنی محبت کا اظہار اپنی اولاد (یعنی اپنی کتابوں) کے نام کڑہ مار کے نام رکھ کر دیا ہے.
ان کی کتابوں کے نام کچھ یوں ہیں:
کڑہ مار پروت دے او وختونہ زغلی
(وقت بدل رہا ہے اور کڑہ مار مستحکم کھڑا ہے)
د جوندون پہ کڑہ مار کے
(زندگی کے کڑہ مار میں)
درد چی ٹپہ شی کڑہ مار گڈیگی
(درد جب ماہئیے میں ڈھلتا ہے تو کڑہ مار رقص کرتا ہے)
چی کڑہ مار راتہ خپل زڑہ اوسپڑی۔۔۔
(جب کڑہ مار میرے سامنے اپنا دل کھولتا ہے۔۔۔۔۔)
ہم دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں کہ جیسے کڑہ مار صوابی کی زمین پر مستحکم کھڑا ہے اسی طرح کڑہ مار کی محبت بھی پروفیسر صاحب کے دل میں قائم دائم رہے تاکہ وہ کڑہ مار کی محبت میں لکھتے رہیں اور ہم ان کی خوب صورت تخلیقات پڑھ کر لطف اندوز ہوتے رہیں.
پروفیسر صاحب کی نذر میرے دو اشعار
ستا د خیالونو پہ زلا مئین یم
ستا د شعرونو پہ خکلا میئن یم
قلم دی تاند جذبے دی زوانی اوسہ
تہ پہ کڑہ مار او زہ پہ تا مئین یم
ترجمہ:
میں تمھارے خیال کی روشنی سے محبت کرتا ہوں
میں تمھارے اشعار کی خوبصورتی سے محبت کرتا ہوں
تمھارا قلم تیز اور تمھارے جذبے جواں رہیں
تم کڑہ مار سے محبت کرتے ہو اور میں تم سے محبت کرتا ہوں
No comments:
Post a Comment