Friday, 3 May 2019

Sindhi Prose / Urdu Prose


سندھی لیجنڈ آغا سلیم (انٹرویو )
ترجمہ: سرمد علی
آغا سلیم سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک نامور پاکستانی شاعر، ادیب، ناول نگار ، افسانہ نگار اور مفکر تھے۔ 7 اپریل 1935 کو شکارپور میں پیدا ہونے والے آغا سلیم کی سب سے بڑی وجہ شہرت ان کے ناول 'ہمہ اوست' اور شاہ جو رسالو کا اردو ترجمہ 'رسالہ شاہ عبد الطیف' ہیں۔ شاہ جو رسالو کا ترجمہ سندھی اور اردو ادب کے لیے ان کی ایک ناقابل فراموش خدمت ہے۔ جو انہیں ادب میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ آغا سلیم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ستارہ امتیاز اور صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے اور دو بار لطیف ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
آغا سلیم 81 سال کی عمر میں 12 اپریل 2016 کو کراچی، سندھ میں وفات پا گئے۔
ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل شکار پور ریڈیو سے آغا سلیم کا انٹرویو نشر کیا گیا ۔ یہ انٹرویو امر اقبال نے لیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہم لوگ تھوڑے پر راضی کیوں ہوجاتے ہیں."
امر اقبال: سندھی ناول, جس کو آپ نے اور سراج صاحب نے اونچائی پر پہنچایا, وہ سندھی ناول اب پڑھنے کو نہیں ملتا, کیا وجہ ہے اِس کی؟
Sindhi Prose / Urdu Prose
آغا سلیم 
آغا سلیم: میرے خیال میں میرے ناول " ہمہ اوست" اور " اندھیری دھرتی روشن ہاتھ (اونداهين ڌرتي روشن هٿ)" آج بھی بہت پڑھے جاتے ہیں۔ اُس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ ناول یونیورسٹیز کے سلیبس میں رکھے ہوئے ہیں۔ پر یہ ناول کی popularity نہیں ہے, یہ پڑھنے والے کی مجبوری ہے۔ باقی جہاں تک ناول کے بکنے کا سوال ہے, تو ناول تو بِکتا ہے اور لوگ پڑھتے بھی ہیں, مجھ سے میرے جو بھی پڑھنے والے ملتے ہیں, انہوں نے میرے دو ناولوں کا حوالہ دیا ہے۔ جب کہ میں نے اور بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ میرے ناول بازار میں ملتے ہیں يا آؤٹ اسٹاک ہوگئے ہیں مجھے نہیں معلوم, پر میں سمجھتا ہوں پبلیشر پڑھی جانے والی کتاب کو کبھی آؤٹ اسٹاک جانے نہیں دیتا۔ تو مجھے تو یہی انفارمیشن ہے کہ میرے ناول چلتے ہیں, پڑھے جاتے ہیں, اسی طرح سراج کے ناول بھی اُتنے ہے پاپولر ہیں۔"
امر اقبال: میرا مطلب ہے کہ, سندھ کی تاریخ کے پس منظر میں سراج صاحب نے جیسے ناول لکھے, اُس کے بعد غلام نبی مغل صاحب نے لکھے, یا پھر آپ نے تصوف کے موضوع پر ناول لکھے....اس قسم کے موضوعاتی ناول آج کل ہمارے پاس کیوں نہیں لکھے جاتے۔۔۔ یا آپ کی جنریشن کے بعد ہمارے پاس ایسے کوئی ناول نگار کیوں پیدا نہیں ہوسکے ہیں؟؟؟
آغا سلیم: عرض یہ ہے کہ یہ کوئی روایت تو نہیں ہو سکتی کہ ہمیشہ لوگ ایک ہی قسم کے ناول لکھیں۔۔ ایک موضوع ہے اس پر لکھا جا چکا ہے۔ میں نے اپنے اینگل سے لکھا, سراج نے اپنے اینگل سے۔ غلام نبی مغل کی بھی بات کر رہے ہیں آپ۔۔۔ پر میں نے ان کے ناول نہیں پڑھے ہیں۔۔ ایسا نہیں ہوتا ہے کہ لکھنے والا ایک ہی موضوع کے تسلسل میں لکھتے جائیں۔ زندگی کے اور بھی ہزاروں موضوع ہیں۔"
امر اقبال: طارق عالم ابڑو کا ناول," رہجی ویل منظر" بہت مقبول ہوا, خاص کر کے نوجوانوں میں, اُس ناول کو بہت پیار سے پڑھا گیا اور آج بھی پڑھا جاتا ہے۔۔ آپ اُس کے بارے میں کیا کہیں گے۔؟"
آغا سلیم: اب مہربانی کر کے مجھ سے یہ مت پوچھنا کہ آپ کو کونسا ناول پسند ہے کونسا نہیں.. میں اپنا ایک عیب بتاتا چلوں کہ مجھ میں rejection بہت ہے۔ میری طبیعت میں شامل ہے۔ تو اُس rejection کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اچھا نہیں تو, اُس کا مطلب میں اچھا ہوں۔ کسی کی rejection کر کے میں اپنی projection کروں۔ یہ مقصد نہیں ہے لیکن شاہ کی ایک لائن ہے," مون سي ڏٺا ماءِ, جِنِين ڏٺو پرينءَ کي."
کہ ھم لوگ تھوڑے پر کیوں راضی ہوجاتے ہیں؟۔۔ تو مجھ سے یہ مت پوچھو کہ کونسا ناول پسند ہے کونسا نہیں۔۔۔
امر اقبال: آپ کی جو نثر ہے, اس نثر پر بھی شاعری کا گمان ہوتا ہے, لیکن آغا سلیم جو ایک شاعر ہیں, اُن کی شاعری ایک محدود کینوس میں ہی رہی, وہ کینوس زیادہ پھیل کیوں نہیں سکا؟
آغا سلیم: پہلی بات کہ کوئی سجا سنوار کر نہیں لکھتا۔ آپ کے پاس ایک inner discipline ہوتا ہے۔ جِس سے زبان اپنا سٹائل بناتی ہے۔ دوسرا لکھنے والے کے جو aesthetics ہوتے ہیں, وہ develop ہوتے ہیں، تو اُن کا اظہار ہوتا ہے۔ زبان خود itself نہیں ہوتی, زبان ذریعہ ہوتی ہے, آپ کے اندر کے اظہار کا۔ پھر وہ زبان کسی کی کیسی بنتی ہے کسی کی کیسی۔ یہ سب کچھ آدمی دانستہ نہیں کرتا۔ ایسے پتہ نہیں کیوں ہوگیا میری زبان ایسی بن گئی۔۔۔۔۔۔
اُس کے بعد آپ نے بات کی شاعری کی۔۔۔ تو ہم جو نثرنگار ہیں, وہ نثر کے ایک ایک صفحے میں پتا نہیں کتنی غزل کہہ جاتے ہیں, اظہار کے لحاظ سے۔۔۔ تو نثر کو خواہ مخواہ ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔۔۔ ٹھیک ہے شاعری اپنی جگہ اور نثر اپنی جگہ۔۔۔
امر اقبال: آپ کا جو ترجمے کا کام ہے, لطیف سائیں کے کلام کو آپ نے اُردو میں منظوم ترجمہ کیا, یا پھر ریسرچ کے حوالے سے, خاص کر کے سچل سائیں کے کلام کے حوالے سے آپ نے جو کام کیا ہے۔۔ وہ بہت بڑے اور اہم کام ہیں۔ پر ہم کو ضرورت ہے اُس آغا سلیم کی جو کہانی لکھے, جو ناول لکھے۔۔۔ وہ آغا سلیم واپس مل سکتا ہے؟
آغا سلیم: میں نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ," بچپن میں کہانی پڑھتے تھے کہ شہزادی گم ہوگئی, شہزادہ اُس کو ڈھونڈنے کے لیے نکلا۔۔۔ شہزادے کو کہا گیا پیچھے مت دیکھنا ورنہ پتھر بن جاؤگے۔ "تو میں نے بھی اپنے لیے لکھا کہ," میں سیدھا جا رہا تھا, شہزادی کے پیچھے تو پیچھے سے آواز آئی, پیچھے مڑ کے دیکھا تو شاہ سائیں نے مجھے بلایا ہے اور میں وہیں پتھر ہوگیا۔ " شاہ صاحب کے پاس میں پتھر ہوگیا ہوں۔ میں نے جب "ہمہ اوست" ناول لکھا, تب جیسے سندھ کو, خود کو, سندھ کے تصوف کو discover کیا۔۔۔ میں نے کہا, ہمارا heritage اتنا سارا ہے اور ہم صرف موہن جو دڑو پر خوش ہیں۔ مٹّی سامنے پڑی ہے۔ یہ جو جاگتا نظریہ ہے, attitude ہے, ہم اس کو چھوڑ کر بیٹھے ہیں۔ بس اُس دن کے بعد مجھے fixation ہوگئی کہ میں اگر کام کرونگا تو اِس heritage پر۔۔۔ افسانے اور بھی لکھتے ہیں۔ ناول غلام نبی مغل بھی اچھا لکھتے ہیں۔ میں نے کہا, میں اب یہ کام کرونگا۔ پھر شاہ سائیں کو نئے نئے اینگل سے دیکھتے ہیں تو نیا نیا آدمی نظر آتا ہے اور ان سے انصاف اسلئے نہیں ہوا کہ اُن کی شاعری کو ماضی کی شاعری میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ جب کے یہ جو شاعری ہے شاہ کی یا سچل کی, یہ ہماری سماع کی روایت کی شاعری ہے, گانے والی شاعری ہے, جب گائی نہیں جا سکتی تو پھر ترجمہ کس لیے؟؟
کس صوفی شاعر نے کوئی نئی بات کی ہے جو کسی اور نے نہیں کی ہے۔ ؟؟ اسٹائل ہوتا ہے ہر شاعر کا, expression کا انداز ہوتا ہے۔ موسیقیت ہوتی ہے۔ تو میں نے شاہ کو ترجمہ کیا موسیقی پر۔ ایک معمولی شعر سناتا ہوں آپ کو شاہ کا کہ:
نوريءَ ۽ ناری جوڳيئڙا جهان ۾
ٻري جن ٻاري, آءٌ نه جيئندي اُن ري.
یہ میں نے ترجمہ کیا:
کیا کیا جوگی جگ میں, کچھ نوری کچھ ناری
جن میں جوت نیاری, بن اُن کے کیا جینا رے!؟
مطلب میں نے شاہ کو اندر میں انڈیل کے, اندر میں تحلیل کر کے recreate کیا ہے۔ میں آپ کو پھر سے۔۔ شاہ سائیں کی بات نکلی ہے تو۔۔ بتاتا ہوں کہ میں گلگت میں تھا۔۔۔ دریا گلگت بہتا ہے, اس کے کنارے میرا ہوسٹل تھا اس کے کمرے میں رہتا تھا۔ سائیں کا "مومل رانو" ترجمہ کر رہا تھا, اس میں ایک لائن تھی کہ:
سون ورنيون سوڍِيُون, روپي راند ڪن.
یہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔۔۔۔ پر وہ مشکلات بتاتا ہوں جو ترجمہ کرتے آئیں۔ اب شعر مجھ سے ترجمہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں سگریٹ پیتا تھا۔ تو میں سگریٹ پیتا دریاۓ گلگت کے کنارے چل رہا تھا۔ دوہرا رہا تھا," سون ورنيون سوڍِيُون, روپي راند ڪن," اس کو اردو میں کیسے ترجمہ کروں۔۔۔ ایسے ہی اچانک خیال آیا کہ:
کندن تن کنواریاں, کھیلیں چاندی سنگ
جوڑی خوشبو میں رچی, مہکے مہکے رنگ
کہے لطیف سائیں خود کو, عجب رنگ کے ڈھنگ
چڑھا پریت کا رنگ, وہ آئی کاک کے گھاٹ پے۔
تو میں نے شاہ کو اتنا ڈوب کر لکھا ہے۔
امر اقبال: لطیف سائیں کو ترجمہ کرتے ہوئے آپ پر کوئی نئے انکشاف۔۔۔؟
آغا سلیم: revelations۔۔۔۔ yes۔۔۔۔ انکشاف۔۔۔ بہترین لفظ استعمال کیا آپ نے۔۔۔۔
امر اقبال: ۔۔۔۔۔۔ تو کوئی ایسا موڑ آیا جب آپ نے قلم ایک سائڈ پر رکھ کے کہا ہو," بس یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا."
آغا سلیم: نہیں نہیں۔۔۔ شکست تسلیم نہیں کی۔ سائیں سے انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ ۔۔ پہنچ نہیں سکتا میں۔ یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔ ایک شخص جو روحانیات کی بلندیوں پر ہو۔ ۔۔ وہ وسعتیں, وہ بلندیاں کیسے حاصل ہوں۔ ؟ پر روشنی تو ملتی ہے نا سرکار! کسی نا کسی جگہ سے۔ اب میں بتاتا ہوں آپ کو سائیں کی revelations کے بارے میں۔۔۔ انکشاف کیسے ہوتے ہیں۔ میں نے پورا رسالہ ترجمہ کیا ہے۔ پر کوئی کوئی بیت پڑھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے یہ میں پہلی مرتبہ پڑھ رہا ہوں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں ترجمے میں اصل روح ختم ہوجاتی ہے۔ سائیں میوزک کا بادشاہ تھا۔ لفظوں کا بادشاہ تھا۔ پتہ تھا کس لفظ میں کتنی موسیقیت ہے۔ اب میں آپ کو ایک شعر سناتا ہوں۔۔۔ صرف آنکھیں بند کر کے اگر کوئی سنے تو ایسا سمجھے گا پتہ نہیں کیا چل رہا ہے آنکھوں کے آگے۔
آکون, ڊاکون, سرکنڊ شاکون, جتي چوکا چندن ڪنور
اب بتاؤ۔۔۔ کتنی عجیب لائن ہے۔ موسیقیت تو دیکھو۔۔۔۔
میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ اس کی معنی ہیں۔۔ آکون: اخروٹ کے درخت, ڊاکون: انگور کی شاخیں, سرکنڊ: خوشبو کا جو پودا ہوتا ہے اس کی شاخیں, جتي چوکا چندن ڪنور: جہاں بہت سارا چندن ہے اور کنول کے پھول ہیں۔۔۔۔ اب بتاؤ۔۔۔ اتنا حُسن صرف ایک لائن میں۔ جہاں خوشبوئیں بھی ہیں اور حُسن بھی۔۔۔
مئہ سي ماڻيا, جن تي نه ڀرن ڀنور
کنول کے پھول اتنے کنوارے ہیں کے ابھی تک اُن پر بھنورے بھی نہیں آئے۔۔ اور پھر کاک کی کنواریوں کا ذکر۔۔
ڪنواريون ۽ ڪنور, ڪاھ تہ پسون ڪاڪ کي.
ارے!!!!! میں کہتا ہوں۔۔۔۔ یہ بیت پتہ نہیں کیسے ترجمہ کیا میں نے۔۔۔۔ تو یہ Revelations۔ ہیں۔۔۔۔۔
امر اقبال: کبھی یہ خیال آیا کہ اردو کے پیمانے میں لطیف کے کلام کو ناپا نہیں جا سکتا!!؟
آغا سلیم: میں اعتراض کرتا ہوں دوستوں پر, ایک تو جو۔۔۔۔ اصل میں اردو کے دو لہجے ہیں۔۔۔ ایک ہے۔
کون ہوتا ہے حریفِ مئہ افگنِ عشق
غالب بولتا ہے۔۔۔ تُرک بولتا ہے۔ یہ وہی لہجہ ہے تركوں کا۔۔ ایک ہے۔
گوری سوئی سیج پر مخبر ڈالے کیس
اس کو میں کہتا ہوں خسرو کا لہجہ۔
خسرو ایسی پریت کرو جیسے ہندو کی جوئے
پرائی پوت کے کارن جل جل کوئلہ ہوئے۔
امر اقبال: واہ واہ
آغا سلیم: اب یہ بھی اردو ہے۔۔ وہ بھی اردو۔۔۔ یہ صوفی ہے ۔۔ وہ کہتا ہے۔۔
سو پُشت سے ہے پیشہ آبائے سپاہ گری۔
یہ اس کا لہجہ ہے۔ اب میں ایسے ہی ترجمہ کیا ہے کیا؟؟ جو کوئی assignment ملی ہوئی ہو۔ نہیں۔۔ میں نے یہ سوچا کہ شاہ سائیں کا جو عورت کا لہجہ ہے۔ وہ کس زبان میں ہو سکتا ہے؟ تُرک لہجے میں ہوگا یہ گوری سوئی سیج والے میں ہوگا؟ پھر میں نے دونوں کو ملا کر کیا۔۔ اب " چوکا اور چندن" کے لیے اردو میں کونسے الفاظ ہیں۔۔۔ ؟؟ اُن کو اردو میں کیسے ترجمہ کیا جائے؟ اب جو بادشاہی اردو ہے, عورت کا لہجہ اُس میں نہیں لایا جا سکتا۔ عورت کا لہجہ نرم ہوتا ہے۔ ۔۔ ترجمہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔۔ recreation ہے۔
امر اقبال: سچل سائیں نے عورت کے آواز کو," ننگڑا نماٹی دا جیویں تیویں پالٹا " کے لفظوں اظہا کیا ہے۔۔۔۔
آغا سلیم: ہاں۔۔۔ ایسا تو ہوگا نا۔۔۔ کہو تو پھر اِس پر بات کروں۔۔۔
امر اقبال: ہاں سائیں!!۔ ضرور۔۔۔۔
آغا سلیم: میں نے سچل پر جو کتاب لکھی ہے, اُس میں لکھا ہے کہ سچل سائیں, اُمید کا شاعر ہے۔ liberation کا شاعر ہے۔ Liberate ہوتا ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے: کافی ہے۔۔۔ چلتی ہے ۔۔ "ننگڑا نماٹی دا جیویں تیویں پالٹا" ۔۔۔۔ دیکھو ایک عورت ہے جو دلہن ہے, گھونگھٹ نکال کر بیٹھی ہے, دلہن کو احساس ہے کہ شکل و صورت کی اچھی نہیں ہوں, وہ اپنے دولہے کو کہتی ہے کہ," میری آهیان مندی آهیان, بیشک بندی آهیان, ڈھکین میڈاڈھولٹا عیب نہیں کھولٹا۔" یہ التجا کرتے کرتے۔۔ پھر کیا کہتی ہے۔۔ "یار سچل توں لتھی کشالی, گھونگھٹ کھولٹا ٻھ ٻھ ٻولٹا" یہ ہے سچل, آج تک کوئی نہیں سمجھا ھوگا سچل کو کہ اس ایک کافی میں کتنا انسان کے اندر کا سفر ہے۔۔۔۔ کے ایک لڑکی جسے پتہ ہے کہ میری شکل صورت اچھی نہیں۔ اُس کی قبولیت ہوگئی۔ وہ جو التجا کر رہی تھی قبول ہوگئی۔ ۔۔۔۔ سچل نے بھی تو discover کیا ہے نا۔۔۔ ایک ایک لائن بولتی ہے۔ سننے والا ہو۔۔
امر اقبال: کہیں کہیں سائیں!! سچل جیسا مست سرمست عاشق پھر عاشقی والی مجبوری میں چلا جاتا ہے,
" کہا آخر باندھ کر ہاتھ, دلبر سامنے تمہارے آئینگے۔۔۔۔۔ کہتا ہے: آؤگے تو کیا ہوگا؟ منہ دیکھنے نہیں دینگے۔۔۔۔۔۔"
آغا سلیم: ٹھیک ہے۔۔۔ پر اب دیکھو۔۔۔۔ گھنڈ کھول دیدار وکاؤ, میں آیا مکھ ویکھٹ" اب انسان دیدار کرنے آرہا ہے تو کسی humble way میں آئے نا!! حکم کرتا ہے۔۔۔۔ اور صوفی کے لیے اور خدا کے لیے کہتے ہیں کہ آدمی کے بیچ میں آدمی کا اپنا وجود۔۔۔۔ عاشق اور معشوق کے بیچ میں عشق۔۔۔ یہ پردے ہیں۔ خود عشق پردہ ہے۔۔۔۔۔۔ "گھونگھٹ کھول" مطلب اللہ کو کہتا ہے۔۔۔۔ لیکن کتنے حاکمانہ انداز میں کہتا ہے۔۔ کتنے اعتماد سے کہتا ہے۔ ایسی شاعری میں بس خوشبو ہوتی ہے۔ صرف حُسن ہوتا ہے۔ مجھے یاد نہیں آرہا۔۔۔ منظور علی خان کا گیا ہوا ایک کلام ہے," ڪيو سينگار سهڻي دي اڳيان.. تُسان سياليان مشڪ ڀلا.." مطلب پورے تن کو سجاؤ۔۔ خوشبوؤں سے بھر دو۔۔۔ ایک معمولی لائن ہے۔ پر اگر آپ کے اندر میں خوشبو ہے تو یہ لائن آپ کو روک دیگی کہ آگے بعد میں جانا پہلے ے لائن تو اندر میں اتارو۔۔۔۔
امر اقبال: سچل سائیں کے فکر پر آپ کا انگریزی کتاب بھی آیا ہے۔۔۔۔۔
آغا سلیم: اُس کتاب کی theme ہے "سچل" ایک ہوتا ہے آپ کوئی چیز لا کر رکھ دو, ایک ہوتا ہے اُس کا پورا perception, یعنی اُس کا پورا پس منظر۔۔ تو میں نے سائیں کو ایسے ترازو میں نہیں رکھا ہے۔ پہلے میں نے بتایا ہے کہ تصوف کیا ہے؟ اُس کی شروعات کیسے ہوئی؟ اُس کی ھسٹری کیا ہے؟ کیا کیا اسباب تھے نظریے کے بننے کے؟ اُس کے بعد جو صوفی شاعر گزرے ہیں۔۔ کچھ لوگوں کو شاید پتا بھی نہیں ہوگا کہ بیبی رابعہ بصری بہت بڑی شاعرہ تھی۔ منصور حلاج بھی شاعر تھے۔ بایزید بسطامی بڑا شاعر تھا۔ اُس کو کہتے ہیں"intoxicated poet"۔۔۔ مطلب کہ سرمست ہوتا تھا اس زمانے میں۔ آج اگر کوئی صوفی شاعری کریگا اُن میں سے کسی کا اُس پر اثر ضرور ہوگا۔ اتنے بڑے شاعر ہیں۔ دنیا کے جو بھی صوفی شاعر ہیں۔ اُن پر اُن شاعروں کا اثر رہیگا۔ وہ بنیاد ہی ایسا رکھ کر گئے ہیں۔ وہ اتنے بڑے giant تھے, اُن کی روشنی آج تک ہم تک پہنچتی ہے۔ وہ fountain head تھے۔ وہاں سے دھارا بہتی ہے۔ وہ لہر شاہ سائیں تک بھی پہنچی تو سچل تک بھی۔۔۔۔۔۔ اُس کے بعد سندھ میں صوفی روایت کا آغاز کیسے ہوا۔ اُن پر لکھا ہے۔ یعنی سچل سے پہلے یہاں کون شاعر تھے, اُن کا سچل پر کیا اثر رہا ہے, کتاب کا نام ہے," Sachal: The Rapturist Poet " سچل: سرمست شاعر۔ پھر آیا ہوں سچل کی طرف۔ اب سچل کے بہت سے رُخ ہیں۔ پھر شاہ اور سچل کا تھوڑا موازنہ کیا ہے۔ وہ "جمالی" ہے اور یہ "جلالی" ہیں۔ لطیف سائیں یہ نہیں کہتا کہ," ہوں انالحق" لطیف سائیں اپنے کرداروں کی معرفت بولتے ہیں۔ یعنی سسئی کہتی ہے," میں خود پنہوں ہوں" بات تو "انالحق" والی ہی ہے۔ لیکن جیسے کے وہ جمالی شاعر ہیں اسلیے یہ بات بھی اپنے کرداروں سے بلواتے ہیں۔
عمر اقبال: یہ کہا جا سکتا ہے کہ لطیف " جمال" کی جتنی گہرائی تک پہنچا ہوا ہے۔ سچل "جلال" کی اتنی اونچائی تک پہنچا ہوا ہے۔ ؟
آغا سلیم: نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔۔ رویوں کی بات ہے ۔ منصور جلالی تھا۔۔ ایک ہوتے ہیں جمالی اور دوسرے جلالی۔ سچل کا رویہ جلالی ہے۔ " ایجھا کم کریجی, جنھن وچ اللہ آپ بٹیجی"۔۔۔ یہ کوئی کفر کا دعویٰ نہیں ہے۔۔ محبوب کے رنگ میں عاشق اتنا رنگ جانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہی بن جاؤں: " تو من شدی من تو شدی" مطلب اللہ سے اتنا عشق کیا جائے کہ خود اللہ بن جایا جائے۔۔ سچل جب کہتا ہے," عشق ہے باجھوں ٻيا سڀ ڪوڙ نہ ڪي حور قصور" یعنی ان میں سے کچھ بھی نہیں ۔۔۔ پر اس کا مطلب یہ نہیں وہ کفر کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جب قرآن میں ہے, تو پھر ہیں۔۔۔۔۔۔ پھر کیسے اُن سے انکار کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ وہ نہیں ہیں مطلب اُن کو سائڈ پر رکھ دو۔۔۔۔۔ جو philosophy۔۔۔۔ ہماری بیبی رابعہ بصری ہے۔۔۔ کہتی ہے," اللہ سائیں! میں اگر جنت کی لالچ میں تم سے پیار کروں تو مجھ کو دوزخ میں ڈال دینا۔۔۔۔۔ اگر دوزخ کے ڈر سے کروں, تو مجھے تباہ کر۔ مجھ سے صرف اس لیے پیار کرو کیوں کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں " دوسری روایت ہے آپ جا رہی تھیں ایک ہاتھ میں کوزہ تھا دوسرے میں دیا۔ پوچھا گیا," بیبی صاحبہ! کہاں جا رہی ہیں؟ کہنے لگیں," اِس دیے سے جنت کو جلانے جا رہی ہوں اور اس کوزے سے دوزخ کو بجھانے جا رہی ہوں۔ کیوں کہ لوگ ان کے ڈر سے خدا سے پیار نا کریں۔ لیکن خدا سے صرف خدا کے لیے پیار کریں." سو یہ بات کُفر نہیں ہے۔ ۔ ملاں کو تو سمجھ ہی نہیں آتی اس بات کی ۔ ۔۔۔
"دین مذاھب رہ گیا کس جا, کِتھاں کفر اسلام"


No comments:

Post a Comment