Sunday, 11 August 2019

Sindhi Prose


تحریر: امر جلیل
ترجمہ: سرمد علی
کاری کہاں ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچوں کو پتہ نہیں کیسے پتا چل گیا کہ پڑوس کے گھر میں کاری کو لے کے بٹھایا ہوا ہے، جس کو صبح کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہر میں پھینک دینگے۔ بچوں کے لیے یہ خبر حیرت کا باعث تھی۔ بچوں کو یہ بات بلکل سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کاری کو صبح ہی کیوں ذبح کرینگے؟ رنگ کا کالا ہونا کیا گناہ ہے؟ 
ایک بچہ بڑا فکرمند ہوگیا, کبھی سر کھجا رہا تھا, کبھی ناک میں اُنگلی ڈال رہا تھا۔ اُس نے دوسری بچوں کو کہا, "یار! میری چھوٹی بہن متیری بھی رنگ کی بہت کالی ہے, اُس کو بھی تو ذبح نہیں کر دینگے؟"
ڈھولن, تمہاری بہن کتنی کالی ہے؟ ایک چھوٹے بچے نے پوچھا۔
ڈھولن بولا," سورج ڈھلنے کے بعد نظر نہیں آتی."
ابا!!! بچہ حیران ہوگیا. تمہاری بہن ٹنڈن(beetle) تو نہیں؟
نہیں نہیں!! ڈھولن بولا," اُس سے تھوڑی کم کالی ہے۔"
اچانک بچوں نے آپس میں بحث شروع کر دی۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کون کیا بول رہا ہے۔ایک بچہ کچھ سمجھدار تھا, اُس کا نام مترکو تھا۔ اُس نے سب کو چپ کراتے ہوئے کہا, معاملہ گڑبڑ ہے، ہم کو اپنے گھر کی کالیوں کی فکر کرنی چاہیے۔
بچے فکر میں پڑ گئے, طمنچہ بولا," میری ماں بہت کالی ہے."
"میری ماں تمہاری ماں سے زیادہ کالی ہے" مترکہ بولا," میری ماں شیدیانی (حبشی) ہے؟"
بڑے بحث مباحثے اور سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوا کہ سب سے پہلے سب اپنے اپنے گھر جائینگے۔ گھر میں جو بھی کالی عورت ہوگی اُسے خطرے سے آگاہ کرینگے۔ اُس کے بعد پڑوس کے گھر میں قید کاری کو بچانے کی کوئی ترکیب سوچینگے۔
بچے اپنے اپنے گھر روانہ ہوئے۔ دوڑتا ہوا ڈھولن سب سے پہلے اپنے گھر پہنچا۔ اِدھر اُدھر دیکھا, پھر بڑی آواز میں ماں سے پوچھنے لگا, " اماں! متیری کہاں ہے؟"
ماں نے جواب دیا," مجھے کیا پتہ وہ کمبخت کہاں ہے، گلی میں دھکے کھا رہی ہوگی کہیں"
ڈھولن گلی میں گیا, اُس کی پانچ سال کی بہن متیری پڑوس کے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ ڈھولن نے بہن کو گود میں اٹھایا اور گھر واپس آیا۔ بہن کو ماں کی گود میں دے کر کہنے لگا," چھپا دو, ذبح کرنے آئے ہیں."
ماں غصے سے," چریا!! دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟"
میرا دماغ صحیح ہے۔ ڈھولن بولا," کلہاڑیاں لے کر آرہے ہیں کسی کاری کو نہیں چھوڑیں گے۔"
ماں نے ڈھولن کو زور سے تھپڑ جھاڑا۔ ڈھولن کے ہوش گم ہوگئے۔ ارے بے حیا!! چھوٹی سی بہن کو کاری کہتے ہو."
کاری نہیں تو اور کیا ہے! ڈھولن باورچی خانے سے توا لے کر آیا۔ غصے میں کہنے لگا," اِس توے جیسی کالی ہے۔ چھپا دو۔ کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دینگے۔"
متیری ہاتھ سے ڈھولن کو لعنت دینے لگی پھر زبان نکال کر چڑانے لگی۔ ماں نے جوتا ہاتھ میں لیا۔ ڈھولن بھاگنے لگا۔ 
کم و بیش اُسی وقت طمنچا گھر پہنچا۔ اُس کی ماں اُس وقت بھینس سے دودھ نکالا رہی تھی۔ وہ ماں سے چمٹ گیا۔ ماں اِس کو پرے ہٹا کر کہنے لگی, "اصل ایک ٹکا بھی نہیں دونگی, جواری کہیں کے۔"
طمنچا پھر ماں سے چمٹ گیا۔ روتی ہوئی آواز میں کہنے لگا۔ اماں تمہاری خیر نہیں, تم کو ذبح کرنے والے ہیں, پڑوس میں پہنچ گئے ہیں۔ 
ماں نے کان سے پکڑ کر طمنچے کو سامنے کھڑا کیا," چھورا، یہ کیا کہہ رہے ہو؟"
ایک کاری(کالی) کو صبح ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہر میں بہا دینگے۔ طمنچا کہنے لگا," تم بھی کم کاری (کالی) نہیں ہو اماں, تم کہیں چُھپ جاؤ, تم کو بھی ذبح کردینگے."
ارے بدبخت چھورا!! ماں طمنچے کو لعنت دے کر کہنے لگی. "بےشرم، ماں کو کاری کہتے ہو!"
مجھ کو کیوں مار رہی ہو؟ طمنچا ناک صاف کرتے کہنے لگا," تم اس بھینس سے کم کالی نہیں ہو۔ "
ماں نے ڈنڈا اُٹھایا۔ طمنچا بھاگنے لگا۔ 
تقریباً اُسی وقت مترکا اپنے گھر پہنچا۔ اُس کی ماں کیچ مکران کے شیدیانی(حبشی) تھی۔ مترکا ماں کو کہنے لگا," اماں، تم جلدی سے کیچ مکران چلی جاؤ۔"
ماں پوچھنے لگی," کیوں ڑے؟"
مترکا کہنے لگا," کاریوں (کالیوں) کو ذبح کرنے والے پہنچ گئے ہیں۔"
ماں لاپرواہی سے کہنے لگی," بھلے کریں ذبح."
مترکا کہنے لگا," تمہیں بھی ذبح کر دینگے."
ماں مکرانی لہجے میں کہنے لگی," مجھے کیوں ذبح کرینگے ڑے؟"
مترکا کہنے لگا," تم بہت کاری (کالی) ہو اس لیے۔"
اڑے میں کارا ہوں؟
مترکے کی ماں مذکر کو مونث اور مونث کو مذکر کر کے بات کرتی تھی۔ اصل پاگل ہوگئی۔ اڑے! میں کارا ہوں، کارا ہوں میں!؟
مترکا دوڑ کر آئینہ لے کر آیا۔ ماں کو دکھاتے کہنے لگا," تم کاری (کالی) ہو, میری ماں, اِس آئینے میں دیکھو, تم کاری ہو."
ماں نے مترکے کو سامنے کھڑا کیا اور زور سے ناک پر مارا۔ مترکا خون بہاتا بھاگ گیا۔
کُچھ دیر بعد سارے بچے گھر سے مار کھا کر آگئے اور آپس میں حال احوال کرنے لگے۔کوئی ایسا بچہ نہیں تھا جس کی اچھی طرح سے مرمت نا ہوئی ہو۔گھر پر سب کو اچھی مار ملی تھی۔بچوں کو ماجرہ سمجھ نہیں آئی۔ ڈھولن کی بہن متیرا ٹنڈن(beetle) جیسی کالی تھی پر ماں اُس کو کالی ماننے کو تیار نہیں تھی۔ مترکے کی ماں حبشی تھی۔ ڈامر جیسی کالی تھی مگر خود کو کالی ماننے کو تیار نہیں تھی۔ طمنچے کی ماں بھینس جیسی کالی تھی مگر کالی کہنے پر طمنچے کو خوب مار پڑی۔ اِس بات پر سب کو حیرانی کم پریشانی زیادہ ہو رہی تھی۔
اپنی پریشانی دُور کرنے کے لیے بچوں نے فیصلہ کیا کہ کیسے بھی کر کے کاری (کالی) کو دیکھیں گے۔ جِس کو صبح ذبح کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہر میں پھینک دینگے۔ بچے اصل میں یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کاری اصل میں کتنی کاری(کالی) ہے جو پانچ چھ ہٹے کٹے جوان اُس کو مارنے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔ کاری کو دیکھنے کے بعد انہیں پتہ چلےگا کہ کاری کے کالے رنگ اور متیری, اور طمنچے اور مترکے کی ماؤں کے کالے رنگ میں کیا فرق تھا؟ اُس کے بعد وہ معلوم کرینگے کہ کیا جہان میں کالے رنگ پر بندش پڑ گئی ہے۔خاص کر کے عورت کے کالے رنگ پر, جو کوئی بھی کالے رنگ کی عورت زور آوروں کو نظر آئیگی تو اُسے ذبح کر دینگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچوں نے کم و بیش اقوامِ متحدہ جیسی ایجنڈا اپنے سامنے رکھی اور اُس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے بچے اِس کھوجنا میں لگ گئے کہ کاری کو کس گھر میں قید کر کے بٹھایا گیا ہے۔ ٹولیاں بنا کر پڑوس کے گھروں میں گھسنے لگے۔کوئی نا کوئی بہانا بنا لیتے۔بال کسی کے گھر میں پھینک کر ایک دم دروازہ کھٹکھٹاتے, کہتے, ہماری بال آپ کے گھر گری ہے۔ پھر لگ جاتے بال ڈھونڈنے۔ مگر نگاہیں لائٹ ہاؤس کی طرح گھماتے رہتے, کمرہ کمرہ ڈھونڈتے رہتے۔
کبھی کبھی پانی کا بہانا کے دروازہ بجاتے، کہتے, ماسی, دھوپ نے مار دیا ہے, ٹھنڈا پانی تو پلائیں۔
بچوں کو بھوک پیاس کا کوئی ہوش نہیں تھا۔دُور دُور تک تقریباً ہر گھر کا سروے کر لیا تھا۔ اُنہیں کہیں بھی کاری کا پتہ نا چل سکا۔ ہر گھر میں ماحول روزمرہ جیسا تھا۔ ساس بہو کے جھگڑے, دیور دیورانیوں کے دھمچر, بچوں کا رونا دھونا, بددعائیں، مرو جا کے کہیں, ٹانگ ٹوٹے تمہاری, چھت آ کر گرے تم پر۔ مطلب ہر گھر سے سندھی سبھیتا خوب جھلک رہی تھی۔
بچے مایوس ہو کر گروپ بنا کر بیٹھ گئے۔ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کوئی گھر رہ تو نہیں گیا۔تب طمنچا بولا," ہاں, جیئند پتاشے کا گھر رہ گیا ہے۔"
حیرت سے سب پوچھنے لگے کیوں؟
طمنچا کہنے لگا," اُس کے گھر کے آگے دو تین جیپیں کھڑی تھیں."
طمنچے کے ساتھی بوڑینڈے نے کہا," اور جیپوں میں لمبی موچھوں والے بندے ہتھیار اٹھائے کھڑے تھے۔"
بچے تعجب میں پڑ گئے۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے گروپ بنا کر نکل پڑے۔ مترکا لیڈر تھا۔ جیئند پتاشے کے گھر واقعی کچھ جیپیں کھڑی تھیں۔کُچھ ہتھیار بند جیپوں میں بیٹھے تھے اور کچھ جیپوں سے باہر کھڑے تھے۔ سگریٹ کے کش لگا رہے تھے۔ مترکے نے کُچھ سوچ بچار کے بعد طمنچے اور بوڑینڈے کو زیادہ معلومات لینے کے لیے مہم پر روانہ کیا۔ خود دوسرے بچوں کے ساتھ ہندؤں کی ٹوٹی دھرم شالا میں چُھپ کر بیٹھ گیا۔
کچھ دیر بعد طمنچو اور بوڑینڈو دوڑتے ہوئے آئے۔ خبر لے آئے۔ طمنچا کہنے لگا،" جیئند پتاشے کی اوطاق پر پتاشوں کا سردار آیا ہوا ہے"
مترکے نے پوچھا," اور کاری؟"
طمنچا کہنے لگا," کاری جیئند پتاشے کی بیٹی ہے۔"
بوڑینڈا کہنے لگا," کاری کو یا تو ذبح کر دینگے یا پھر پتاشوں کا سردار کاری کو سام کر کے اپنے ساتھ لے جائے گا۔"
سام لفظ بچوں کے لیے نیا تھا۔ لفظ سن کر ہکے بکے ہو گئے۔ سام کی کوئی معنی اُنہیں سمجھ نہیں آرہی تھی۔ معنی تو دُور کی بات ہے, بچوں کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سام سندھی لفظ ہے, انگریزی Sam ہے، اردو ہے، پارسی ہے یا عربی لفظ ہے؟
بوڑینڈا اچھا مشورا دیتے ہوئے کہنے لگا," چلو چلیں سائیں مراد علی میںدھرے سے پوچھیں."
مراد علی میندھرو ریٹائرڈ پرائمری ماستر ہے۔ اتنی پینشن مل جاتی ہے کہ تین دن کے بعد ایک ٹائم کا کھانا کھا سکتا ہے اور خدا کا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شکر ادا کرتا ہے۔
مراد علی میندھرا بچوں سے مِل کر خوش ہوا۔ سام کی معنی سمجھانے سے پہلے وہ بچوں کو کہنے لگا۔ مجھ کو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سندھ میں ابھی بھی ایسے بچے پیدا ہورہے ہیں جنہیں علم کی فکر ہے۔ اُس کے بعد مراد علی میندھرا مثال دے کر سام کا مطلب سمجھایا۔ اُس نے کہا," سام کا مطلب ایک بیوس بکری کو خونخوار گیدڑ کی پناہ میں دے دینا۔"
ماسٹر مراد علی میندھرے کے دیے گئے مثال پر سوچ بچار کرتے بچے ٹوٹے ہوئے دھرم شالا لوٹ آئے۔ تب تک انہیں مثال کی معنی سمجھ آ چُکی تھی۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ قیدی کاری بیوس بکری تھی اور پتاشوں کا سردار خونخوار گیدڑ۔ قیدی کاری کو يا تو ذبح کر دینگے یا پھر پتاشوں کے سردار کی پناہ میں دے دینگے۔
مگر کاری کا جرم کیا ہے؟ ڈھولن نے اچانک سوال کر کے بچوں کو تعجب میں ڈال دیا۔ اُن کا سارا دھیان کاری کے کالے رنگ پر تھا۔ ڈھولن کا سوال سن کر سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
کاری کے جُرم کے بارے میں ہم بعد میں سوچیں گے, مترکا بولا,"سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کاری کتنی کالی ہے جو میری حبشی ماں نے میرا ناک توڑ دیا ہے."
اِس بات نے سب کو اُلجھن میں ڈال دیا۔ قیدی کاری کے پاس پہنچیں تو کیسے پہنچیں! اُسے دیکھیں تو کیسے دیکھیں! آپس میں مشورے کے بعد یہ ذمےداری مترکے نے لے لی۔ اِس کام میں مدد کے لیے اُس نے طمنچے اور بوڑینڈے کو ساتھ لیا۔ باقی بچے دھرم شالا میں بیٹھ گئے۔
مترکا, طمنچا اور بوڑینڈو دور سے ہی پتاشے کے گھر کو دیکھنے لگے۔ سائیڈ والے گھروں کا جائزہ لینے لگے۔ ایسا کرتے تینوں خود کو انگریزی اور ہندی فلموں کے جاسوس محسوس کر رہے تھے۔ اُن کی ہمت بڑھ گئی۔ بندر کی طرح بجلی کے کھمبوں اور درختوں پر چڑھ گئے۔ وہاں سے جیئند پتاشے کے گھر کا جائزہ لینے لگے۔ پھر جب ملاں کو چکر دے کر مسجد پر چڑھ گئے تو وہاں سے اُنہیں دیکھنے کے لیے جیئند پتاشے کے گھر کا اچھا منظر مل گیا۔ اُنہیں صحن صاف نظر آرہا تھا۔ مرد سارے جرگے میں تھے جس کا اجلاس اوطاق میں چل رہا تھا۔ اِس لیے صحن میں کوئی مرد چلتے پھرتے نظر نہیں آرہا تھا۔ باقی جب کوئی عورت صحن سے گذر رہی تھی تو کچھ دیر رُک کر ایک طرف دیکھ رہی تھی اور پھر دوپٹے سے آنکھیں صاف کر کے آگے جا رہی تھی۔ غور کرنے پر بچوں نے یہ محسوس کیا کہ اُس طرف کوئی کوٹھی تھی۔ اُن کو یقین ہوگیا کہ کاری اُس کوٹھی میں تھی۔ اُنہوں نے کوٹھی کا نقشا ذہن نشین کر لیا تھا اور مسجد سے نیچے اُتر آئے۔ جیئند پتاشے کے گھر کے پیچھے پتلی گلی تھی۔بچوں کو اندازہ کرنے میں دیر نہیں لگی کہ کاری جس کوٹھی میں قید تھی، اُس کوٹھی کی پچھلی دِیوار پتلی, غلیظ اور بدبودار گلی میں تھی۔ تینوں بچے گلی میں پہنچ گئے۔ گلی میں کئی گھروں کی دیواریں تھیں۔ تھوڑا سوچ بچار کے بعد تینوں کاری کی کوٹھی کی دیوار کے باہر کھڑے ہوگئے۔ یہ دیکھ کے خوش ہوگئے کہ دیوار میں اُوپر روشندان تھا اور روشندان کے پاس بجلی کا پرانا پول تھا۔
گلی سے کسی کے گزرنے کا امکان اِس لیے کم تھا کہ گلی میں گھٹنے جتنا گندا پانی تھا۔ بچے جیسے کے بڑی مہم پر نکلے ہوئے تھے اِس لیے نا تھی گندے پانی کی پرواہ اور نا غلاظت کی۔ طمنچے اور بوڑینڈے کے کندھوں پر پاؤں رکھ کر مترکا پول پر چڑھ گیا۔ جب اُوپر چڑھ گیا تو گردن آگے کر کے روشندان سے کوٹھی میں دیکھنے لگا۔ وہ کافی دیر تک اندر دیکھتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ نیچے اتر آیا۔ مایوس لگ رہا تھا۔ کہنے لگا," کوٹھی میں کالی تو نہیں ہے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ایسے کیسے؟" طمنچا بندر کی طرح پول پر چڑھ گیا۔ روشندان سے اندر دیکھنے لگا، کافی دیر دیکھنے کے بعد اُس نے گردن نیچے کر کے مترکے اور بوڑینڈے کی طرف دیکھا اور پھر کوٹھی کے اندر دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد ہکا بکا ہو کر نیچے اُتر آیا۔ کہنے لگا," برابر کوٹھی میں کالی نہیں ہے."
بوڑینڈو کو طمنچے اور مترکے کی بات پر یقین نہیں آیا۔ وہ دونوں کے کندھوں پر پاؤں رکھ کر پول پر چڑھ گیا۔ روشندان سے اندر کوٹھی میں دیکھنے لگا پھر دونوں دوستوں کی طرف دیکھنے لگا پھر کوٹھی میں دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد انکار میں سر گھماتا نیچے اُتر آیا۔ کہنے لگا," یار, کوٹھی میں کالی تو نہیں ہے."
طمنچا, مترکو اور بوڑینڈو دھرم شالا لوٹ آئے۔ ڈھولن پوچھنے لگا, پھر کوٹھی میں کون تھا؟
مترکا کہنے لگا," کوٹھی میں دودھ جیسی ایک سفید لڑکی کو چارپائی سے باندھ رکھا تھا۔ "
ایک بچے نے پوچھا," تمہیں یقین ہے مترکا وہ کالی نہیں تھی۔"
طمنچا کہنے لگا," وہ مکھن جیسی سفید تھی۔"
مکھن میلہ ہوتا ہے۔ مترکا کہنے لگا,"دودھ جیسی تھی، بلکل سفید."
لڑکی میں نے بھی دیکھی تھی، بوڑینڈو کہنے لگا," وہ دھی جیسی سفید تھی۔"
طمنچے، مترکے اور بوڑینڈے کی شاہدی کے بعد بچوں کو یقین ہوگیا کہ کوٹھی میں قید لڑکی کالی نہیں تھی۔ بچوں کو تشویش ہوگئی۔ ایک گنجہ بچا کہنے لگا," کہیں ایسا تو نہیں کے گاؤں والوں نے رنگوں کے نام بدل دیے ہوں! کالے رنگ کو سفید اور سفید کو کالا سمجھنے لگے ہیں؟"
گنجے کی بات پر بچوں نے غور کیا۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ رنگوں نے بڑی گڑبڑ کر دی ہے۔ وہ غلام محمد درزی کی دکان پر گئے۔ اُس سے کالے کپڑے اور سفید کپڑے کے دو ٹکڑے لیے۔ اُنہوں نے آپس میں کچھ اہم فیصلے کر لیے۔ پہلے تو ماسٹر مراد علی میندھرے کے پاس گئے۔ ماسٹر بچوں کو دیکھ کر خوش ہوا, کہنے لگا," پھر اپنے علم میں اضافہ کرنے آئے ہو کیا؟"
مترکا کالے رنگ کا کپڑا ماسٹر کو دکھا کر پوچھنے لگا," سائیں ہم کو بتاؤ اِس کپڑے کا رنگ سفید تو نہیں؟"
اڑے! پاگل تو نہیں ہوگئے ہو! ماسٹر حیران ہو کر کہنے لگا،" دماغ تو صحیح ہے نا؟"
ہمارے دماغ کی فکر نا کریں سائیں، مترکا کہنے لگا،" ہم کو بتاؤ یہ کپڑا كس رنگ کا ہے۔"
ماسٹر کو شک ہوگیا۔ کپڑا ہاتھ میں لے کر جانچنے لگا۔ پھر کہنے لگا," کالے رنگ کا ہے, سو فیصد کالے رنگ کا ہے۔"
پھر سفید رنگ کا کپڑا ماسٹر کو دکھاتے ہوئے مترکا پوچھنے لگا," اور اِس کپڑے کا رنگ کیا ہے؟_
ماسٹر نے حیرت سے سفید رنگ کا کپڑا ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگا۔ کہنے لگا، سو فیصد سفید رنگ ہے۔ بنا کسی شک شُبہ کے.
ماسٹر مراد علی کو حیران و پریشان چھوڑ کر بچے باہر نکل آئے۔ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کے لیے جیئند پتاشے کے گھر کا رُخ کیا۔ لیڈر مترکے, طمنچے اور بوڑینڈے کو بنا دیا تھا۔ راستے میں کوئی کسی سے نہیں بولا۔ چوپٹ کر کے چلتے رہے۔ جب تک جیئند پتاشے کے گھر پہنچے تب تک پتاشوں کے سردار نے اپنے فیصلے سے سب کو آگاہ کر دیا تھا۔ اُس کا فیصلہ سب نے قبول کیا۔
ماؤس ہونے کے باوجود مترکا, طمنچا اور بوڑینڈو اوطاق میں جانے لگے۔ دوسرے بچے بھی اوطاق کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں سارے جگ جہاں کے بچوں کو سارے معاملے کی بھنک پڑ گئی، ہوتے گئے اوطاق کے دروازے کے باہر جمع ہونا۔ طرح طرح کے بچے تھے, کچھ پتلے، کچھ موٹے، کچھ چھوٹے، کچھ لمبے، کچھ کالے، کچھ سانولے ، کچھ گورے۔
تینوں بچے پتاشوں کے سردار کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ مترکا اپنا اور اپنے دوستوں کا تعارف کراتے ہوئے کہنے لگا," میرا نام سائیں ڈنو ٹھپر ہے، لوگ مجھے مترکا کہتے ہیں۔ یہ ہے طمنچا، پراصل نام ہے پیر ڈنو واڈھو اور یہ ہے خدا ڈنو کھرکھلو، بلاتے ہیں بوڑینڈو۔"
پتاشوں کا سردار بچوں کو تعجب میں دیکھتا رہا۔ گاؤں میں سے کچھ لوگ اُٹھے مگر پتاشوں کے سردار نے ہاتھ کے اشارے سے اُنہیں بیٹھا دیا۔
مترکے نے زیادہ تعارف کرتے ہوئے کہا," ہم تینوں گورنمنٹ پرائمری سکول چھگڑو, دیھ دیگڑھو, تحصیل جاتی, تعلقہ کبھی نہیں آتے کے شاگرد ہیں"
سردار نے بڑی شفقت سے پوچھا," بیٹا کوئی کام ہے؟ "
مترکا کہنے لگا," سائیں آپ کو غلط بتایا گیا ہے، وہ جس کو آپ نے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا ہے, وہ اصل میں کاری (کالی) نہیں ہے۔"
سردار کے منہ سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ گاؤں والوں کے کان کھڑے ہوگئے۔ سردار کے منہ سے آہستہ سے نکلا, وہ کاری نہیں ہے!
قسم ہے نُور کا وہ کاری نہیں ہے, مترکا کہنے لگا،" ہم تینوں نے اُسے دیکھا ہے، وہ دودھ جیسی سفید ہے."
بوڑینڈو نے ایک دم کہا," بلکل دہی جیسی سفید۔"
قہری سردار نے تینوں بچوں کو اشارے سے آگے آنے کے لیے کہا۔ تینوں بچے سردار کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ سردار نے اور آگے آنے کے لیے کہا۔ بچے آگے بڑھے اور ایک قدم کی دوری پر سردار کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ سردار نے بچوں کو اپنی طرف کھینچ لیا اور آہستہ سے کہا," مجھے پتا ہے وہ گوری ہے, اِس لیے تو مروا نہیں رہا ہوں۔ اپنے ساتھ سام میں لے جا رہا ہوں۔"۔۔







1 comment: