Tuesday, 3 September 2019

Urdu Poetry

۔۔۔۔
اقلیت
سلاخیں انسانی کتابوں کی موجد ہیں 
کھلے واش روم پہلی بار شرم دلاتے ہیں
آہستہ آہستہ چرس کی باس رچ جاتی ہے
سرکاری نوکر تمام لوازمات کا خیال رکھتے ہیں 
رضاکار بس پچاس سو ہی لیتا ہے
ساتھ بیٹھا مولوی بچے کو ہراساں کرتا تھا
جیکٹ میں ملبوس شیر صورت آدمی فراڈیا ہے
چھوٹی داڑھی والے دو جوانوں کی الگ کہانی ہے
محبوبہ سے ملا ہتھے لگا اناج کے کیس میں اندر ہے 
دوسرا کہنے لگا کل این ٹی ایس دوں گا لے لی ضمانت
باپ بیٹا صوبائی دارلحکومت سے بھاگے یہاں کان پکڑے کھڑے تھے
یہاں روز جماعت بھی ہوتی ہے
بیس لوگوں کے پاوں رکھنے کی جگہ پچاس نفوس کا گھر ہے یہ
باہر سے جھانکتی آنکھیں اندر تک گاڑ دیتی ہیں
کچہری بھی کیا اچھی سیرگاہ ہے
دیکھو یہ ایس ایچ او جب سامنے نظر آئے کھڑے ہونا ہے سب نے
میاں تمھاری جیکٹ سے مشکوک لگتے ہو
اہنوں اہنوں ہاں یہ نہیں چھوٹ پائے گا میرا بھی تجربہ کہتا ہے
تم کہاں تھے کیوں پکڑے گئے؟
ہاسٹل سے رات کے پچھلے پہر پورا عملہ اٹھا لایا 
وطن کہاں ہے تمہارا کچھ بتا سکتے ہو؟
بقول تفشیشی افسر میرا وطن آٹھواں ضلع ہے 
پر کوئی شک کوئی شبہ کوئی کیس؟
کہتے ہیں میری جیکٹ سے لگتا ہے میری چھوٹی داڑھی سے لگتا ہے
بتا بھی چکو کیا لگتا ہے
میں دہشت گرد ہوں بم پھوڑنے آیا ہوں
پھر یہ تم سر اٹھائے کیوں کھڑے رہتے ہوں
میرا مسئلہ خون کا بہادر ہونا ہے
میں بلوچ ہوں

منصور ارحم
۔۔۔

No comments:

Post a Comment