Thursday, 14 November 2019

Urdu Poetry

....
مستقل ایک سی رہ سکتی ہیں کب ترجیحات
وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں سب ترجیحات

جام مے، رقص بتاں، نغمہ نے، اور ہم تم
ساقیا ہوں گی یہی آج کی شب ترجیحات

وہ جو کل تک تھے مرے یار مجھے دیکھ کے آج
پھیر لیتے ہیں نظر اور سبب "ترجیحات"

کوچہ عشق میں رکھیں نہ قدم بھی وہ لوگ
جن کے ہیں مال و زر و نام و نسب ترجیحات

جھوٹ سے بڑھ کے کوئی جنس نفع بخش نہیں
آج کا دور بھی رکھتا ہے عجب ترجیحات

ضرب جب پڑتی ہے دیوار انا پر عارف
کون رکھ سکتا ہے اک حال پہ تب ترجیحات

محمد عارف نسیم فیضی
....

No comments:

Post a Comment