Sunday, 17 March 2019

Pashto Poetry دو دوست

دو دوست
-------
پشتو کے ابتدائی دور کے دو شعراء شیخ اسماعیل سڑبنی اور خوشبوؤن آپس میں بہت گہرے دوست تھے. شیخ اسماعیل پشتو کے ابتدائی دور کے شاعر بیٹ نیکہ کے بیٹے تھے جبکہ خوشبوؤن بیٹ نیکہ کے بھائی سڑبن کا بیٹے تھے۔ گویا دونوں آپس میں چچازاد بھائی تھے.
شیخ اسماعیل کو اس کے والد بیٹ نیکہ نے بچپن میں ہی تعلیم و تربیت کے لئے اس کے چچا سڑبن کے حوالے کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے انہیں شیخ اسماعیل سڑبنی بھی کہا جاتا ہے۔ گویا شیخ اسماعیل اور خوشبوؤن کا بچپن ساتھ ساتھ گزرا. شاید ان کہ گہری دوستی اور مضبوط تعلق کی وجہ یہی تھی۔
شیخ اسماعیل اور خوشبوؤن دونوں پشتو کے ابتدائی شعراء میں سے گنے جاتے ہیں۔ شیخ اسماعیل ولی اللہ تھے اور کافی لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی تھی۔ ان کے کلام میں گہرے درد و غم کی کیفیت ملتی ہے۔ جب کچھ قبائلی لڑائیوں کی وجہ سے خوشبوؤن غوڑی مرغئ (موجودہ غور) کی طرف کوچ کرنے لگا تو شیخ اسماعیل نے اس موقع پر یہ اشعار کہے
کہ یون دے یون دے
مخکی بیلتون دے
لہ کسی غرہ سخہ زی
یار خوشبوؤن دے
کہ ورورہ ورورہ
خوشبوؤنہ ورورہ
تہ چی بیلتون کڑی
زما ویر تہ گورہ
د خدائے د پارہ
خوشبوؤنہ یارہ
چی ہیر مو نہ کڑی
زمونگ کھول واڑہ
زڑہ می رپیگی
یار می بیلیگی
بیلتون ئی اور دے
زان پری سوزیگی
ترجمہ : جانا ٹھہر ہی گیا ہے اور آگے جدائی نظر آرہی ہے۔ میرا یار خوشبوؤن پہاڑوں کے اس پار جا رہا ہے۔ اے میرے بھائی تم جا تو رہے ہو لیکن میری آہ و فغاں سنتے جاو۔ اے میرے یار خدا کے لئے ہمیں بھلا نہ دینا۔ میرا دل کانپ رہا ہے۔ میرا یار جدا ہورہا ہے اور اس کی جدائی ایک آگ ہے جو میری جان کو جلا رہی ہے۔
Pashto Poetry دو دوست
Pashto Poetry
 دو دوست
خوشبوؤن کی شاعری میں بھی درد کا اثر جھلکتا ہے. اس نے اپنی شاعری میں خالص پشتو الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اور دیگر زبانوں کے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا ہے.
خوشبوؤن شیخ اسماعیل کی جدائی کے دکھ کو اپنی شاعری میں کچھ یوں بیان کرتا ہے:
بیلتانہ نعرہ می وشوہ پہ کور باندی
نہ پوہیگم چی بہ پیخ وی سہ پہ وڑاندی
لہ خپلوانو بہ بیلیگم پہ سرو سترگو
دواڑہ سترگی می پہ وینو دی جڑاندی
اسماعیلہ ستا نعرو می زڑہ سورے کڑو
بیلتانہ خوشبوؤن بیا لہ تا پردے کڑو
ستاسو یاد بہ می وی بس د زڑہ وسخ تہ
کہ دا مزکہ غرونہ ٹول شی لاندی باندی
ترجمہ :
جدائی کا وقت آگیا ہے اور مجھے کچھ علم نہیں آگے کیا پیش آنے والا ہے. آج سرخ آنکھوں کے ساتھ اپنوں سے الگ ہورہا ہوں میری دونوں آنکھوں سے خون کے آنسو بہہ رہے ہیں. اسماعیل ایک تو فراق مجھے تم سے الگ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور دوسرا تمھارے درد بھرے اشعار نے دل کو خونم خون کر دیا ہے. لیکن یہ سن لو کہ چاہے پہاڑ اپنی جگہ بدل لیں اور زمین آسمان اوپر نیچے ہوجائیں لیکن میرے دل سے تمھاری یاد نہیں جائے گی۔
-------
ـــ عارف نسیم فیضی


No comments:

Post a Comment