۔۔
(محمد عارف نسیم فیضی (ایک تعارف
نہ ماہ رو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی
ہمیں تو پہلی محبت کتاب سے ہوئی تھی
![]() |
| محمد عارف نسیم فیضی |
ہوش سنبھالتے ہی گھر میں ہر طرف کتاب نظر آئی۔ والد صاحب اور چچاجان دونوں نے دینی علوم بھی حاصل کئے ہوئے تھے اور عصری بھی۔ والد صاحب پرنسپل تھے اور چچا جان انگلش کے پروفیسر- لیکن اپنے اپنے مضمون کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی کا شوق بھی رکھتے تھے۔ سو دونوں کا اپنا اپنا ذخیرہ تھا۔ والدہ اخبار جہاں کی مستقل قاری تھیں۔ ان حالات میں کتاب کی طرف رغبت لازمی تھی-
پرائمری میں تھا جب پھوپھی کے بیٹے کو خط لکھا۔ موصوف روزگار کے سلسلے میں جہلم میں مقیم تھے۔ خط کےجواب میں انعام کے طور پر ماہنامہ نونہال کے دس شمارے ملے۔ یہ میری پہلی ملکیت تھی جس کو میں حرز جاں بنا کے رکھتا تھا۔ پانچویں پاس کرکے ہائی سکول میں آیا تو والد صاحب نے حرف غزل دی جن میں متعدد شعراء کا انتخاب شامل تھا۔
پرائمری میں تھا جب پھوپھی کے بیٹے کو خط لکھا۔ موصوف روزگار کے سلسلے میں جہلم میں مقیم تھے۔ خط کےجواب میں انعام کے طور پر ماہنامہ نونہال کے دس شمارے ملے۔ یہ میری پہلی ملکیت تھی جس کو میں حرز جاں بنا کے رکھتا تھا۔ پانچویں پاس کرکے ہائی سکول میں آیا تو والد صاحب نے حرف غزل دی جن میں متعدد شعراء کا انتخاب شامل تھا۔
۔۔
رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
سوئے میخانہ فقیہان حرم آتے ہیں
ساتویں میں تھا جب والد صاحب کی ٹرانسفر اسی سکول میں ہوئی جہاں میں پڑھتا تھا- والد صاحب کی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہویے میری بریکس اور ڈرل کلاسز مستقل لائبریری میں گزرنے لگیں یہاں تک کہ میں جب نویں میں پہنچا تو چند کتب (جو مجھے غیر دلچسپ لگیں) کو چھوڑ کر ساری لائبریری میں پڑھ چکا تھا۔ اس وقت ہم نئے مکان میں شفٹ ہوئے اور نتیجۃ میرا سکول بھی تبدیل ہوا۔ یوں ایک نئی لائبریری میرے ہتھے چڑھ گئی۔ تب تک میں نے تھوڑا بہت اپنا ذخیرہ بھی جمع کرنا شروع کر لیا تھا۔ طبیعت کچھ تو شاید پیدائشی موزوں تھی کیوں کہ تیسری کلاس میں میں نے اپنی ڈائری میں شعر لکھا تھا
۔۔
سردار حسین چی دا جھنڈہ اوچتہ کڑلہ
بیا ہوا سرہ دا اخوا دیخوا تللہ
(سردار حسین نے جب جھنڈا اوپر چڑھایا تو یہ ہوا کے ساتھ ادھر ادھر لہرانے لگا- سردار حسین ہمارا کلاس فیلو تھا جو صبح اسمبلی میں قومی ترانے کے وقت پرچم کشائی کرتا تھا۔)
تو بات میں کر رہا تھا موزونئ طبع کی
اس موزونئ طبع کو مطالعے نے مزید صیقل کیا۔ سکول کے ساتھ ساتھ گھر پر چچا سے دینی علوم کا حصول بھی جاری تھا۔ سات سال کی عمر میں ختم القرآن کے بعد دینی کتب پڑھنی شروع کیں۔ ان کتب کی وجہ سے فارسی اور عربی میں شد بد حاصل ہوئی.
سکول اور کالج لائف میں شوقیہ کچھ لکھ کر دوستوں کو سنا کر ضائع کر دیتا تھا۔ ماسٹرز کے دوران کچھ شاعر دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ کو باقاعدہ شاعری کرنی چاہیئے کہ آپ کی طبع قدرتی طور پر موزوں ہے.
یوں باقاعدہ طور پر ڈائری بنا کر غزل گوئی کا آغاز ہوا۔ ماسٹرز (فزکس) کے بعد والد صاحب کے سکول میں ٹیچنگ شروع کی. اسی دوران کیوپڈ کے تیر کا نشانہ بنا۔ جس نے پہلے سے رومانوی طبیعت کو مزید رومانوی بنا دیا۔
دو تین سال بعد سکول کو چھوڑ کر بیسٹ وے سیمنٹ حطار جوائن کیا۔ چند مہینے بعد ہی کمپنی نے مجھے نئے پراجیکٹ پر چکوال بھیج دیا اور تب سے چکوال ہی جاب کر رہا ہوں۔ اب تو چوآ سیدن شاہ اور کلر کہار اپنے گھر جیسے لگتے ہیں.
اس دوران وینس کو گھر لانے کے بعد شاعری کا سلسلہ کچھ عرصہ کافی گڑبڑ رہا ہہہہہ. نتیجہ عشق میں اللہ نے دو پریاں اور ایک شہزادہ عطا کیا.
تو بات میں کر رہا تھا موزونئ طبع کی
اس موزونئ طبع کو مطالعے نے مزید صیقل کیا۔ سکول کے ساتھ ساتھ گھر پر چچا سے دینی علوم کا حصول بھی جاری تھا۔ سات سال کی عمر میں ختم القرآن کے بعد دینی کتب پڑھنی شروع کیں۔ ان کتب کی وجہ سے فارسی اور عربی میں شد بد حاصل ہوئی.
سکول اور کالج لائف میں شوقیہ کچھ لکھ کر دوستوں کو سنا کر ضائع کر دیتا تھا۔ ماسٹرز کے دوران کچھ شاعر دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ کو باقاعدہ شاعری کرنی چاہیئے کہ آپ کی طبع قدرتی طور پر موزوں ہے.
یوں باقاعدہ طور پر ڈائری بنا کر غزل گوئی کا آغاز ہوا۔ ماسٹرز (فزکس) کے بعد والد صاحب کے سکول میں ٹیچنگ شروع کی. اسی دوران کیوپڈ کے تیر کا نشانہ بنا۔ جس نے پہلے سے رومانوی طبیعت کو مزید رومانوی بنا دیا۔
دو تین سال بعد سکول کو چھوڑ کر بیسٹ وے سیمنٹ حطار جوائن کیا۔ چند مہینے بعد ہی کمپنی نے مجھے نئے پراجیکٹ پر چکوال بھیج دیا اور تب سے چکوال ہی جاب کر رہا ہوں۔ اب تو چوآ سیدن شاہ اور کلر کہار اپنے گھر جیسے لگتے ہیں.
اس دوران وینس کو گھر لانے کے بعد شاعری کا سلسلہ کچھ عرصہ کافی گڑبڑ رہا ہہہہہ. نتیجہ عشق میں اللہ نے دو پریاں اور ایک شہزادہ عطا کیا.
دو ہزار آٹھ میں فیس بک جوائن کیا تو اسی پر ہی اپنی شاعری شئیر کرکے دوستوں سے داد لیا کرتا تھا. دو ہزار گیارہ میں پشتو کا ایک آن لائن ادبی مجلہ شروع کرنے کا خیال پتہ نہیں کیسے ذہن میں آگیا۔ مجلے کا نام گل لالہ تجویز ہوا اور اس مقصد کے لئے گل لالہ کے نام سے پیج اور گروپ بھی بنا لئے۔ فیصلہ ہوا کہ گل لالہ اڑتالیس صفحات کا مجلہ ہوگا جس میں تیس صفحات نثر کے لئے اور اٹھارہ صفحات نظم کے لیے مختص ہوں گے۔
میرا آفس اٹینڈنٹ بھی پختون تھا اور کبھی کبھی مجھے ایک بندے کی شاعری ایس ایم ایس کرتا تھا جس کا نام تخلص رحمان تھا اور اس کی شاعری بہت خوب صورت ہوا کرتی تھی۔ وہ بھی بیسٹ وے سیمنٹ میں ہی جاب کر رہا تھا۔ اس کو اپنے آفس آنے کی ریکویسٹ کی اور یوں ہم دونوں نے مل کر گل لالہ کا آغاز کر دیا۔ بعد میں رحمن نے رحمن بابا کے ساتھ تخلص ایک ہونے کی وجہ سے میرے مشورے پر فطرت تخلص رکھا. فطرت صاحب اس وقت پشتو ادب میں ایک الگ مقام کے حامل ہیں۔ ہم ساڑھے تین سال تک ہر مہینے باقاعدگی سے گل لالہ اپلوڈ کرتے رہے جو کہ کافی کٹھن کام تھا۔ اڑتالیس صفحات کے لئے مواد اکھٹا کرنا، ٹائپ کرنا پھر مجلے کی صورت میں ڈئزائنگ، ٹائٹل وغیرہ. اس کے علاوہ ہم نے گل لالہ کے پیج پر ایک ماہوار طرحی مشاعرے کا بھی آغاز کیا. یوں گل لالہ کا اپنے قارئین سے زیادہ فائدہ شاید ہم دونوں کو ہوا۔ کہ گل لالہ کی بدولت ہمارا مطالعہ بھی بڑھا۔ ادبی لوگوں سے بھی واقفیت بڑھی۔ اس دوران فطرت نے اپنا مجموعہ پلوسین بادونہ کے نام سے شائع کیا۔ اور اس کے بعد اس نے مجھے بھی مجموعہ شائع کرنے کے لئے فورس کرنا شروع کیا۔ میرے پشتو مجموعے گونگئ وینا کی اشاعت کا سہرا مکمل طور پر فطرت کے سر ہے۔ کہ مواد فائنل کرنا اس کے لئے فلیپس لکھوانا، پبلشر سے ڈیلنگ سب کچھ اس نے کیا، میں نے بس اس کو مواد دیا اور ٹائٹل خود بنا کر دیا. مجموعے کی اشاعت کے سلسلے میں میرا پشاور کا صرف ایک چکر لگا جب کتاب شائع ہوئی۔
اس کے بعد فطرت نے جاب چھوڑ دی اور چراٹ سیمنٹ جوائن کر لیا۔ جس کے بعد فون پر تو رابطہ رہتا ہے لیکن اس رابطے میں وہ اردو مجموعے کا فقط پوچھ ہی سکتا ہے اور میں اسے لارا ہی دے سکتا ہوں ہہہہ.
اردو کے بعد انگلش میں بھی طبع آزمائی کی۔ حافظ کی فاریس غزلیات کے تراجم بھی کئے۔ چند مختصر افسانے بھی لکھے۔ انہماک کے آئزک عمر ایونٹ کے لئے تیس لفظی مائیکروف بھی لکھیں۔
خیام، عشقی، رقص درویش وغیرہ کے حوالے سے کئ تحقیقی مظامین بھی لکھے جو مختلف پشتو میگزینز میں شائع ہوئے.
اس دوران کراچی میں ہونے والے اوج ادب مقابلے میں دو سو اسی شعراء میں سے تیسری پوزیشن حآصل کرکے تعارفی سند اور انعام بھی حاصل کیا.
تین سال پہلے اللہ جل شانہ نے عمرے کی سعادت سے نوازا۔ اس سفر سے واپسی پر جلال و جمال کے نام سے ایک سفرنامہ لکھا۔ جس کو ۔مختصر تعداد میں شائع کرکے قریبی دوستوں کو تحفہ کے طور پر دیا۔
ابھی اردو کلام کو ایک فائل میں یکجا تو کر لیا ہے. جس میں دو دفعہ چھانٹی کر چکا ہوں۔ اور ایک اور چھانٹی کا ارادہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک سو پچاس صفحات کی کتاب کا ارادہ ہے جس کا مجوزہ نام زہراب ہوگا۔
اس کے بعد فطرت نے جاب چھوڑ دی اور چراٹ سیمنٹ جوائن کر لیا۔ جس کے بعد فون پر تو رابطہ رہتا ہے لیکن اس رابطے میں وہ اردو مجموعے کا فقط پوچھ ہی سکتا ہے اور میں اسے لارا ہی دے سکتا ہوں ہہہہ.
اردو کے بعد انگلش میں بھی طبع آزمائی کی۔ حافظ کی فاریس غزلیات کے تراجم بھی کئے۔ چند مختصر افسانے بھی لکھے۔ انہماک کے آئزک عمر ایونٹ کے لئے تیس لفظی مائیکروف بھی لکھیں۔
خیام، عشقی، رقص درویش وغیرہ کے حوالے سے کئ تحقیقی مظامین بھی لکھے جو مختلف پشتو میگزینز میں شائع ہوئے.
اس دوران کراچی میں ہونے والے اوج ادب مقابلے میں دو سو اسی شعراء میں سے تیسری پوزیشن حآصل کرکے تعارفی سند اور انعام بھی حاصل کیا.
تین سال پہلے اللہ جل شانہ نے عمرے کی سعادت سے نوازا۔ اس سفر سے واپسی پر جلال و جمال کے نام سے ایک سفرنامہ لکھا۔ جس کو ۔مختصر تعداد میں شائع کرکے قریبی دوستوں کو تحفہ کے طور پر دیا۔
ابھی اردو کلام کو ایک فائل میں یکجا تو کر لیا ہے. جس میں دو دفعہ چھانٹی کر چکا ہوں۔ اور ایک اور چھانٹی کا ارادہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک سو پچاس صفحات کی کتاب کا ارادہ ہے جس کا مجوزہ نام زہراب ہوگا۔
نمونہ کلام کے طور پر ایک ہی نظم تینوں زبانوں میں پیش ہے
----------
If God assigns his angels a task
To prepare a visual dictionary
A dictionary in the form a beautiful valley
Where all the words spoken by us will be embodied
Where each and every word will be given a specific structure
Having a complete resemblance with its nature
What will the angels do?
How will they meet the tough task?
I don’t know pretty girl
But one thing is crystal clear to me.
You will be the princess of the awesome valley
As for “Beauty”
Who else can be a perfect match?
But do remember my darling.
I will also be somewhere around you
Because their quest for “Love”
Will obviously lead them to me
----------
خدا نے کہہ دیا جس دن فرشتوں سے
لغت میں جس قدر الفاظ ہیں
سب کو کسی سانچے میں ڈھالو
زبانوں سے نکلنے والے ہر اک لفظ کو کردو مجسم
مری جاناں ذرا سوچو
فرشتے حسن کی خاطر
بھلا تم کو نہیں تو منتخب کس کو کریں گے
مگر اک بات یہ بھی یاد رکھنا
عشق کی خاطر
فرشتوں کی نظر سارے جہاں سے گھوم کر
مجھ پر ہی ٹھہرے گی
----------
ته سراپا جمال ئي
که يوه ورځ خدائے اراده اوکړله
چې مجسم وجود دي ورکړے شي نن هر يو لفظ له
لرم يقين چې د ښکلا د پاره
وړومبې نظر د ملائکو به په تا پريوځي
خو زه هم ستا د همسرۍ دعوه لرم جانانه
ولې چې عشق د پاره
د ملائکو انتخاب به يقينا چې زه يم
----------
قلم کے اس سفر میں میرا سب سے بڑا اثاثہ اپنے دوستوں کی حؤصلہ افزائی ہے- میری دعا ہے کہ اس نعمت سے کبھی اللہ مجھے محروم نہ کرے۔
سبھی احباب سلامت رہیں
تاقیامت رہیں۔
آپ کا
عارف نسیم فیضی

جب میں نے فیس بک شروع کیا تو بیشتر نو اموزوں کی طرح رنگارنگ تصاویر الٹ پلٹ کرتا رہتا تھا اور کچھ نیوز پیجز بھی لائیک کئے تھے جن کی توسط سے مجھے حالات حاضرہ سے آگاہی ہوجاتی تھی. کسی نے بتایا تھا کہ فیس بک ایک کمیونٹی ہے اور اس سے لطف اندوز ہونے کیلئے دوستوں کو اپنے ساتھ ملانا پڑتا ہے سو میں نے بھی اس فارمولے پر عمل کیا اور جو بھی سامنے آیا تو اسے اپنے دوستوں میں شامل کرلیا. ایسے ہی دوستوں میں کہیں عارف نسیم بھی اس ریلے میں شامل ہوگئے لیکن مجھے نہ تو یہ پتہ تھا کہ یہ کون ہیں اور نہ ہی ان سے تعارف تھی. جب ہم فیس بک کی بلوغت کو پہنچے تو رفتہ رفتہ مجھے عارف صاحب سے انسیت پیدا ہوگئی جو وقت کے ساتھ ساتھ دوستی اور پھر احترام میں تبدیل ہوتی گئ. اس ارتقائی عمل کا جب میں تجزیہ کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم دونوں میں کچھ قدر مشترک موجود ہیں جن میں سب سے
ReplyDeleteمقدم ہمارا آرتھوڈوکس ہونا ہے. گو کہ اقبال کے
ی بقول آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا..
مشکل مرحلہ ہے لیکن اپنی اس افتاد طبع کا کیا کریں کہ طبیعت ادھر نہیں آتی... بھر حال کسی دن میں نے عارف صاحب سے فون نمبر لیکر اس سے ملاقات کی ٹھانی اور اس دن کے بعد اس کی شخصیت کو ایک نئے زاوئیے سے دیکھنے شروع کیا جس میں اکثر اوقات مجھے ان کو دیکھنے کیلئے اپنے سر کو اونچا کرنا پڑتا ہے. کیونکہ ان کا قد بہت بلند ہے...
عارف نسیم فیضی..
ReplyDeleteفیسبک کی توسط سے ملا ہوا اک استاد, دوست, بھائی…
کیا کیا ہی رشتے بنتے گئے… میں ہی نہیں بلکہ جس کا بھی واسطہ پڑے وہ ست کی محبت کی وجہ سے پھر چھوڑنے سے رہتا ہے…
اپکی شخصیت کے ساتھ ساتھ اپکی شاعری بھی اتم اتی اتم ہے...
شکر رب کریم کا مجھے انجیسا اک دوست اور استاد ملا.