شاعر: ایاز گل
سندھی سے ترجمہ : مسرور پیرزادہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہے یار ! جدائی، تم کو کیا معلوم؟
میلے کی تنہائی، تم کو کیا معلوم؟
یاد نے کتنا ہم کو رُلایا راہوں میں
رات ہے جب بھی آئی، تم کو کیا معلوم؟
اُس کی آنکھیں یار! نہیں دیکھیں تم نے
ساگر کی گہرائی، تم کو کیا معلوم؟
عطر کی خوشبو تم کو پتہ ہے، لیکن جو
سوچوں نے پھیلائی، تم کو کیا معلوم؟
اندر میں یہ درد کے پھول کِھلے ہیں دیکھ
یہ رُت کیسے منائی، تم کو کیا معلوم؟
![]() |
| Sindhi Poetry |

No comments:
Post a Comment