(محبت ہے صبا جیسی (کتابوں پر تبصرہ
تحریر : محمد عارف نسیم فیضی
محبت ہے صبا جیسی میرے ہاتھ میں ہے
کتاب مجھے پندرہ بیس دن پہلے ملی تھی لیکن؛
کتاب مجھے پندرہ بیس دن پہلے ملی تھی لیکن؛
یوں تو سب کچھ ہے میسر لیکن
اک تمنا ہے سو فرصت کی ہے
فرصت مل نہیں رہی تھی اور ارادہ یہی تھا کہ اس کتاب کو چلتے پھرتے ایک ایک غزل الگ الگ نہیں پڑھنا
بلکہ مکمل فراغت کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنا ہے؛
جب تنہائی ہو،
موبائل اور نیٹ آف ہوں،
بلیک کافی کا کپ ہو،
میں ہوں ،
محبت ہو،
اور محبت بھی صبا جیسی،
کیوں کہ حال دل نہ تو سر راہ کہا جاتا ہے نہ سنا جاتا ہے، یہ باتیں فراغت کے ساتھ ہوتی ہیں-
سو فرصت میسر آتے ہی کتاب اٹھائی اور اس کی صحبت میں اک نشست بتائی-
ہم نے تو کچھ نہیں کہا، کتاب کہتی گئی اور ہم سنتے گئے-
دل یہی چاہ رہا تھا یہ نشست کبھی ختم نہ ہو لیکن کچھ اور اہم کام بھی نبٹانے تھے-
جیسے اس خوب صورت کتاب پر تبصرہ بھی تو کرنا تھا-
صاحب کتاب کی طرف سے کتاب ملے وہ بھی آٹو گراف کے ساتھ تو اس کا حق بنتا ہے کہ کتاب کو مکمل پڑھا جائے اور اپنے تاثرات بیان کئے جائیں-
محبت ہے صبا جیسی
جیسا نام سے ہی ظاہر ہے محبتوں کا بیان کرتی شاعری ہے-
آج کل کے پر آشوب دور میں جب انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں ٹینشن اور ڈیپریشن پیدا کرنے والے عوامل تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہورہے ہیں، دھیمے سروں میں محبت کی بات کرنا کار دارد ہے لیکن جاوید احمد صاحب کہتے ہیں نا،
چند شاعر ہیں جو اس شہر میں مِل بیٹھتے ہیں
ورنہ لوگوں میں وہ نفرت ھے کہ دل بیٹھتے ہیں
سو شاعروں کا تو فرض بنتا ہے کہ چاہے نفرتوں کی جتنی بھی آندھیاں کیوں نہ اڑیں، وہ محبت کے گیت گنگناتے رہیں اور صبا نے یہ فرض کس خوبی کے ساتھ نبھایا ہے اس کی گواہی محبت ہے صبا جیسی کا ہر مصرع دے رہا ہے-
محبت ہے صبا جیسی میں جہاں شاعری کی دو بڑی اصناف غزل اور نظم کو یکساں مہارت سے برتا گیا ہے، وہیں ساتھ ساتھ میں قطعات مفردات بھی شامل ہیں-
غزل اور نظم کے الگ حصے بنانے کی بجائے ان کو اکٹھا رکھا گیا ہے۔ یوں قاری کو پڑھتے ہوئے باری باری مختلف اصناف کا ذائقہ چکھنے کو ملتا ہے اور وہ ایک صنف مسلسل پڑھنے والی یکسانیت سے دوچار نہیں ہوتا۔
بلکہ مکمل فراغت کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنا ہے؛
جب تنہائی ہو،
موبائل اور نیٹ آف ہوں،
بلیک کافی کا کپ ہو،
میں ہوں ،
محبت ہو،
اور محبت بھی صبا جیسی،
کیوں کہ حال دل نہ تو سر راہ کہا جاتا ہے نہ سنا جاتا ہے، یہ باتیں فراغت کے ساتھ ہوتی ہیں-
سو فرصت میسر آتے ہی کتاب اٹھائی اور اس کی صحبت میں اک نشست بتائی-
ہم نے تو کچھ نہیں کہا، کتاب کہتی گئی اور ہم سنتے گئے-
دل یہی چاہ رہا تھا یہ نشست کبھی ختم نہ ہو لیکن کچھ اور اہم کام بھی نبٹانے تھے-
جیسے اس خوب صورت کتاب پر تبصرہ بھی تو کرنا تھا-
صاحب کتاب کی طرف سے کتاب ملے وہ بھی آٹو گراف کے ساتھ تو اس کا حق بنتا ہے کہ کتاب کو مکمل پڑھا جائے اور اپنے تاثرات بیان کئے جائیں-
محبت ہے صبا جیسی
جیسا نام سے ہی ظاہر ہے محبتوں کا بیان کرتی شاعری ہے-
آج کل کے پر آشوب دور میں جب انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں ٹینشن اور ڈیپریشن پیدا کرنے والے عوامل تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہورہے ہیں، دھیمے سروں میں محبت کی بات کرنا کار دارد ہے لیکن جاوید احمد صاحب کہتے ہیں نا،
چند شاعر ہیں جو اس شہر میں مِل بیٹھتے ہیں
ورنہ لوگوں میں وہ نفرت ھے کہ دل بیٹھتے ہیں
سو شاعروں کا تو فرض بنتا ہے کہ چاہے نفرتوں کی جتنی بھی آندھیاں کیوں نہ اڑیں، وہ محبت کے گیت گنگناتے رہیں اور صبا نے یہ فرض کس خوبی کے ساتھ نبھایا ہے اس کی گواہی محبت ہے صبا جیسی کا ہر مصرع دے رہا ہے-
محبت ہے صبا جیسی میں جہاں شاعری کی دو بڑی اصناف غزل اور نظم کو یکساں مہارت سے برتا گیا ہے، وہیں ساتھ ساتھ میں قطعات مفردات بھی شامل ہیں-
غزل اور نظم کے الگ حصے بنانے کی بجائے ان کو اکٹھا رکھا گیا ہے۔ یوں قاری کو پڑھتے ہوئے باری باری مختلف اصناف کا ذائقہ چکھنے کو ملتا ہے اور وہ ایک صنف مسلسل پڑھنے والی یکسانیت سے دوچار نہیں ہوتا۔
سادگی اور سلاست
صبا کا کلام ریت کے ننھے ننھے سفید ذروں کے اوپر سے بہتے ہوئے پانی کے جھرنے جیسا ہے، صاف اور شفاف، ثقیل اور نامانوس الفاظ و ترکیبات سے مبرا اور بے جا ابہام گوئی سے پاک۔
یہ اشعار پڑھیئے اور داد دیجئے سادگی، سلاست اور بے ساختگی کی
صبا کا کلام ریت کے ننھے ننھے سفید ذروں کے اوپر سے بہتے ہوئے پانی کے جھرنے جیسا ہے، صاف اور شفاف، ثقیل اور نامانوس الفاظ و ترکیبات سے مبرا اور بے جا ابہام گوئی سے پاک۔
یہ اشعار پڑھیئے اور داد دیجئے سادگی، سلاست اور بے ساختگی کی
محبتوں پر کتاب کوئی میں لکھ رہی ہوں
چہاں پہ بچھڑے وہیں پہ ہی ختم باب ہوگا
کوئی آغاز تھا اور نہ انجام تھا
پر کہانی ہمیں ان کی سچی لگی
جدت
صبا نے اپنے کلام میں روایت کے حدود میں رہتے ہوئے جدت کو بخوبی برتا ہے- فیس بک، واٹس ایپ، موبائل فون اور انٹر نیٹ اکیسویں صدی کے انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں. اور صبا نے اپنی شاعری میں ان سے متعلقہ ایسپکٹس کو نہایت خوبی کے ساتھ استعمال کیا ہے-
صبا نے اپنے کلام میں روایت کے حدود میں رہتے ہوئے جدت کو بخوبی برتا ہے- فیس بک، واٹس ایپ، موبائل فون اور انٹر نیٹ اکیسویں صدی کے انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں. اور صبا نے اپنی شاعری میں ان سے متعلقہ ایسپکٹس کو نہایت خوبی کے ساتھ استعمال کیا ہے-
ان کی نظم وسوسہ پڑھیے؛
تم چلے جاؤگے بہت آگے
اورمیں رہ جاؤں گی کہیں پیچھے
یاد کےدور اک دریچے میں
خواب کی دھندچھٹ گئی جب تو
کہیں نکلے گی فون ڈیٹا میں
میری تصویر اک پرانی سی
میسجزوہ شکایتوں کے سبھی
تم بھی ہنس کر کہو گے
پاگل تھی ،
خود بخود پھر تمھاری اک انگلی
ڈھونڈ لے گی ڈیلیٹ کا آپشن
اک اور نظم قناعت دیکھ
مرے سارے پسندیدہ سے کاموں میں
یہ سب سے مشغلہ ہے اہم
تمہاری وال کا چکر لگانا
تمھاری ساری تصویریں تمھاری پوسٹ کو تکنا
ہر ایک تصویر پر کامنٹ
ہر اک کامنٹ پہ خود ہی دل بنا لینا
اور خود ہی رپلائی دے کے یوں بے ساختہ ہنسنا
پھر اکثر سوچنا میرا اداسی میں
مرےحصے میں لکھا ہے
تمہارے ساتھ کے بس اس قدر ہی پل
مگر یہ اطمینانی کیفیت اور یہ خوشی اپنی
اسے محسوس کر کے سوچتی ہوں
محبت میں قناعت کس قدر ہے
تاننیثی رنگ
صبا کے کلام کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اردو کی بیشترشاعرات کی طرح مردانہ اپروچ کو نہیں اپنایا بلکہ شاعری میں جس نسوانی اپروچ کو پہلے پہل پروین شاکر نے اپنایا صبا نے اسی اپروچ کو آگے بڑھایا-ان کی نظمیں عزت اور لمس اس کی بہترین مثال ہیں۔
عزت ملاحظہ ہو جہاں وہ ایک عورت کی حیثیت سے عزت کو محبت پر مقدم قرار دیتی ہیں.
رہا یہ دکھ ہمیشہ سے
کبھی اس قاتل جاں نے
مجھے چاہا نہیں ویسے
کہ جیسے میں نے چاہا ہے
مگر ہر بات پر اس کا
مجھے جیتی رہو کہنا
ہمیشہ خوش رہو کہنا
نجھے اکثر رلاتا ہے
اسے کیسے بتاؤں میں
کہ میری ذات عورت ہے
محبت بھول جاتی ہوں
پر عزت یاد رہتی ہے
رجائیت
قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے سانحات رونما ہوجاتے ہیں جن کا نقش انمٹ ہوتا ہے۔ ایسے سانحات قوموں کی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔ معاشرے کا نباض ہونے کی حیثیت سے شعراء ایسے سانحات کا اثر عام لوگوں سے زیادہ لیتے ہیں. ہماری نسل کے لئے اے پی ایس ایسا ہی ایک سانحہ تھا جس نے لاکھوں لوگوں کی سوچ کا انداز بدل دیا. پشاور کی باسی ہونے کی حیثیت سے صبا نے اس سانحے کا کیا اثر قبول کیا وہ ان کی نظم سابحہ آرمی پبلک سکول میں واضح ہے- لیکن اس نظم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف نوحہ یا آہ و فغاں نہیں بلکہ گزرے سانحے پر پہنچنے والے دکھ کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس میں رجائیت اور ایک نئی امید بھی جھلکتی ہے۔ اس نظم کی دو سطریں ملاحظہ ہو۔۔
مرے گلشن کی کلیاں جس طرح مسلی تھیں دشمن نے
میں جب گلشن سنواروں گی دسمبر یاد آئے گا
دشمن کی طرف سے گلشن کی کلیاں مسل دئے جانے کا دکھ اپنی جگہ، لیکن یہ دکھ صبا کو اپنا گلشن سنوارنے سے نہیں روک پا رہا-مجھے نہیں معلوم کتاب میں نظموں کی ترتیب ان کی زمانی حٰیثیت کے مطابق رکھی گئی ہے یا اس کے لئے کوئی اور کرائیٹیریا رکھا گیا ہے لیکن سانحہ آرمی پبلک سکول والی نظم کے فورا بعد نیا سال کے نام سے موجود نظم اور اس نظم کی آخری دعائیہ سطریں ایک خاص معنیٰ رکھتی ہیں کہ اس قوم کے افراد کسی بھی سانحہ کے بعد امید ہارنے والوں میں سے نہیں-
اجتماعیت سے ہٹ کر اپنی انفرادی زندگی میں بھی وہ ہمہ وقت امید کا دامن تھامے نظر آتی ہیں- وہ ایک ایسی دنیا کی تلاش میں ہیں جہاں دکھ سکھ اور موت زندگی میں بدل جائے. نظم "چلو جاناں وہاں جائیں" کو نفرادی خواہش بھی سمجھا جاسکتا ہے لیکن سوچ کے کینوس کو وسیع رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ایک قوم کی حیثیت سے بھی ہم عرصہ دراز سے اسی تلاش میں ہیں.
چلو جاناں وہاں جائیں
جہاں دکھ کے سبھی موسم بدل جائیں
کہ ہم اس زندگی کے نام پراس موت سے باہر نکل آئیں
کوئی منظر تو ایسا ہو
نوید ِ زندگی جو دے
جہاں فطرت بھی زندہ ہو
جہاں پرصبح کی بھی روشنی آئے
پیام اس کا بھی زندہ ہو
ہوا چھو کر گزر جائے
اوراس کا لمس زندہ ہو
پرندے چہچہائیں جب توان کی لے بھی زندہ ہو
گلوں کے رنگ بھی مہکیں
بدلتے رت بھی زندہ ہو
محبت محرم ِجاں ہے
ہو یہ احساس بھی زندہ
جہاں پر میں رہوں زندہ، جہاں پر تم رہو زندہ
ہمارا پیار بھی زندہ ،چلو جاناں وہاں جائیں
انا
انا اور پندار انسانی شخصیت کا وہ بنیادی جزو ہے جس کے بنا شخصیت کی عمارت کا کھڑا رہنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ انا اور تعلق کی کشمکش میں توازن رکھنا ایک مشکل امر ہے۔ بلاشبہ تعلقات ٹوٹنے کے لئے نہیں برقرار رکھنے کے لئے ہوتے ہیں لیکن جہاں پندار پر ضرب پڑتی ہے پھر انسان کو ایسے ہی اصول بنانے پڑتے ہیں جو صبا بتا رہی ہیں
یہ اصول ہے میرا
چاہے ضد کہو اس کو
دکھ مجھے جو دیتا ہے
اس کا زندگی بھر میں
سامنا نہیں___ کرتی
چھوڑ دینے والے سے
رابطہ نہیں رکھتی
ویسے تو محبت ہے صبا جیسی کے بارے میں مزید بھی بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں انتخاب پیش کرتے کرتے پوری کتاب ہی آپ کے سامنے نہ رکھ دوں۔ سو آخر میں ان کی ایک خوب صورت نظم جس سے کتاب کا نام لیا گیا ہے پڑھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ
صبا ! تخلیق کا رب آپ کی توفیقات میں برکت عطا فرمائے۔
آپ شاد رہیں۔ آباد رہیں۔
صبا ! تخلیق کا رب آپ کی توفیقات میں برکت عطا فرمائے۔
آپ شاد رہیں۔ آباد رہیں۔
محبت
محبت خوبصورت ہے ، محبت ہے صبا جیسی
محبت دل کی ٹھنڈک ہے ، محبت ہے دعا جیسی
محبت راحت جاں ہے ,محبت ہے شفا جیسی
کہاں سب کو میسر ہے ، محبت ہے عطا جیسی
محبت نور آنکھوں کا ,محبت روشنی جیسی
محبت میں ہیں ساتوں سُر
محبت راگنی بھی ہے
محبت نظم جیسی ہے، محبت اک غزل بھی ہے
محبت لفظ کے اندر چمکتے آئینے جیسی
محبت شاعری بھی ہے
۔۔
![]() |
| محبت ہے صبا جیسی ڈاکٹر صبا خان |

No comments:
Post a Comment