Sunday, 21 April 2019

Urdu Prose

ہجرت زدہ ممتا
ان دنوں کراچی میں عورتوں کی خرید و فروخت کی منڈی لگا کرتی تھی جو اب شاید نہیں لگتی۔وہ اسی انسانی منڈی سے خریدی گئی تھی۔امر واقعہ یوں تھا کہ خریدنے والے شخص کا ایک بھائی تھا جبکہ کوئی بہن نہ تھی کہ وٹہ سٹہ کے رائج نظام کے تحت وہ شادی کر پاتا۔گاوں کا کوئی شخص مزدوری کے سلسلہ میں کبھی کراچی گیا تھا اور انسانی منڈی کا مژدہ اپنے گاوں کے عمر رسیدہ کنوارے آدمی کو سنایا۔بڑے بوڑھے جو اس جہاں سے کوچ کر چکے ہیں بتاتے تھے کہ گاوں میں خاص اہتمام کے ساتھ نکاح پڑھوایا گیا تھا۔خریدی گئی عورت بنگالی تھی جسے بنگالی کے سوا کسی زبان کا ادراک نہ تھا۔اب اسے سرائیکی کیونکر سمجھ آتی۔تب دوسری مشکل یہ تھی کہ گاوں میں کوئی واش روم نہ تھا اس وجہ سے اس بنگالی عورت کا گزارہ اور بھی مشکل تھا۔ناقص واش کے تختے سے گری گٹر سے بمشکل اسے نکالا گیا۔شروع کے دنوں میں کئی مرتبہ اس نے بھاگنے کی کوشش ضرور کی مگر ناکام رہی۔آہستہ آہستہ وہ سرائیکی ماحول کی عادی ہوتی گئی۔اس دوران بچوں کی خواہش نے انگڑائی لی۔علاج معالجہ برابر چلتا رہا جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔مزید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ بیچنے سے قبل اسکا آپریشن کر دیا تھا وہ ماں بننے کے قابل نہ تھی۔وہ بتاتی ہے کہ اسکے ماموں نے سسے فروخت کیا تھا بنگالی منڈی میں آگے کا اسے کچھ پتہ نہیں۔برسوں اس کی خوراک صرف چاول اور مچھلی ہی رہی بعد میں دیسی خوراک بھی راس آ گئی۔اس کا تکیہ کلام "ای کنا" رہا ہے جس کی آج تک کسی کو سدھ بدھ نہیں۔سبھی گاوں والے اسے "بھابھی" کہہ کے بلاتے ہیں۔آج بھی وہ بنگالی لہجے میں بتاتی ہے

اماں مری رو مارے دو پترو رو
اماں مری رو مارے دو پترو رو

 تحریر : منصور ارحم 

No comments:

Post a Comment