Sunday, 21 April 2019

Urdu Prose

سو لفظی کہانی
اٹھرا
کچھ خواہشیں مردہ پیدا ہوتی ہیں۔مگر اسکی خواہشوں کا ابارشن کیا گیا۔جسم جیسے بانجھ پڑ گیا ہو۔بانجھ جسم ویران میدان ہوتے ہیں جہاں گندے نالے کا پانی چھوڑا جاتا ہے۔
سرما کا آغاز ہوا تھا کہ اس کے من میں ایک انگڑائی نے راکھ اڑائی۔ایک ماہ دو روپے اکھٹے کرنے میں لگا چاول کھانے کی شدید خواہش مسل پنپ رہی تھی۔
جب وہ چمکتا سکہ اس نے ریڑھی بان کے آگے رکھا تو وہ کہنے لگا اب چاول پانچ کے ملتے ہیں۔دیر ہو چکی تھی اس دیر نے خواہشوں کے مزید جھوٹے دلاسے دلانے سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے معذرت کر لی تھی۔
 تحریر : منصور ارحم

No comments:

Post a Comment