Saturday, 25 May 2019

Sindhi Prose / Urdu Prose

نشان
تحریر: امر جلیل
ترجمہ: سرمد علی


ہماری باتوں کی نہ ابتدا ہوتی ہے اور نا ہی انتہا۔ کبھی کبھی تو پہروں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں اور موت کے بارے میں۔ خوشیوں کے بارے میں اور غموں کے بارے میں- خوابوں کے بارے میں اور کبھی کبھی تو گھنٹوں خاموش رہتے ہیں, ویران راستوں پر, اُداس درختوں کے نیچے! ایسی زندگی, جس کا ایک بڑا حصہ ہم نے اپنے وجود کے منتشر حصوں کو سمیٹتے اور اِسی کوشش میں ناکام گزار دی ہے اور باقی حصہ جو محدود اور مختصر ہے, اِسی کوشش میں گزر جائیگی۔
کل ہم کلفٹن تک پیدل گئے تھے, اور سمندر کے کنارے اپنے قدموں کے نشان چھوڑ کر لوٹ آئے۔ بیچ رستے میں خاموشی کو توڑتے سندھو نے ایک جملہ کہا تھا, " وقت کی ہوا ہمارے قدموں کے نشاں مٹا دیگی."
"ہاں, ہاں وقت کی ہوا قدموں کے عارضی نشاں مٹا دیتی ہے." سندھو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا," تم نے اور میں نے موہن جو دڑو میں, جب یہ شہر آباد تھا, قدموں کے نشان چھوڑے تھے۔ وہ نشان آج تک وہاں موجود ہیں۔ وقت کی ہوا عشق کی عبادتگاھوں میں کیے گئے سجدوں کے محرابوں کو مٹا نہیں سکی ہے۔"
سندھو تھنڈی آہ بھر کے کہنے لگی," تم ماضی کا ذکر کر رہے ہو۔"
"عشق کی عبادت گاہ ویران نہیں ہوئی ہے سندھو." میں نے کہا تھا," میں حال کی بات کر رہا ہوں۔"
بس ایسی ہوتی ہیں ہماری باتیں, جن کی نہ کوئی شروعات ہوتی ہے اور نہ ہی اختتام! لوگوں کو ہماری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں ہیں۔ پھر وہ ہماری باتوں کی ہزاروں مطلب نکال لیتے ہیں۔
کلفٹن سے پیدل واپس لوٹے تھے۔ صدر تک پہنچتے تھک گئے تھے۔ ایلفی سے گزرتے وقت ایک بچی کو دیکھا تھا۔ فیشن آرکیڈ کے باہر فوٹ پاٹھ پر پرانے کیلنڈرز رکھ کے بیٹھا تھا۔ اور کیلنڈرز میں سے تصویریں کاٹ کر بیچ رہا تھا۔ سندھو بچی کے پاس رُک گئی۔ پُرانے کیلنڈرز کی طرف دیکھتی رہی۔ پھر نیچے جُھکی, ایک پُرانے کیلنڈرز سے کٹی ہوئی تصویر مجھ کو دکھا کر پوچّھنے لگی," کیسی ہے؟"
میں نےبیخیالی میں جواب دیا," ٹھیک ہے۔ اچھی ہے۔"
بچی سے تصویر کی قیمت پوچھ کر اُسے ایک روپیہ دے کر تصویر خرید لی۔ میں نے تعجب میں اسے دیکھا اور پوچھا," تصویر کیوں لی ہے؟"
جواب دینے لگی," تمہیں جو پسند ہے!"
"مجھے" میں حیران ہوگیا۔
" ہاں, تم نے ہی تو کہا تھا نا کہ تمہیں پسند ہے۔"
"میرے سر میں اور مصیبتیں کم ہیں جو اب لڑکیوں کی تصویریں جمع کرونگا!"
"کیا پتا!"
"مجھے میوزیم نہیں کھولنا"
"بس" سندھو کہنے لگی, " میں تمہارے منہ سے یہی سننا چاہتی تھی, مجھے تمہارے بارے میں سب پتہ ہے."
"دل کا کعبہ کئی بتوں سے آباد تھا سندھو۔" میں نے اُس کی طرف دیکھتے کہا اور " جب سے مجھے ایک معبود ملا ہے, تب سے میں نے دل کے کعبے کے سارے بت توڑ دیے ہیں۔"
سندھو اُداس نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی۔
میں نے کہا," جب میں نہیں رہونگا سندھو, تب سندھ کے مرثیہ گو شاعر تم سے میری بےپناہ محبت کے نوحے لکھینگے۔ میری چاہت کو گائینگے۔۔۔۔۔۔۔"
Sindhi Prose
دریائے سندھ

No comments:

Post a Comment