کتاب: سندھو بقا, میں فنا
تحریر: امر جلیل
ترجمہ: سرمد علی
تحریر: امر جلیل
ترجمہ: سرمد علی
"آج کے دور میں پتھر کے دور کی روایت"
قدیم سے قدیم دور میں, پتھر کے دور سے بھی پہلے, جب تاریخ کا فن ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا, قبیلے کی قیادت اُس شخص کو ملتی تھی, جو سب سے طاقتور ہوتا تھا اور اپنے حریفوں کو شکست دے دیتا تھا۔ ایسا کہیں کہ ایک طاقتور شخص اپنی طاقت سے قبیلے کی قیادت یا لیڈرشپ ہاتھ میں لے لیتا تھا۔ اُس وقت تک وہ اقتدار پر قابض رہتا تھا, جب تک کوئی اور شخص اُسے شکست نا دے دے یا جب تک اپنے آپ نہیں مرتا تھا۔ خود کو طاقتور ثابت کرنے کے لیے وہ اپنی طاقت کے مختلف مظاہرے کرتا تھا۔ اپنے قبیلے کے کم طاقتور مخالفین کو مار دیتا تھا۔ دوسرے قبیلے کے سرداروں کو للکارتا تھا۔ اُنہیں مقابلے کے لیے چیلنج کرتا تھا۔ ایسے مقابلے کے نتیجے میں جو سردار کامیاب ہوتا تھا, دوسرے سردار کے قبیلے پر قبضہ کر لیتا تھا۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب خُدا کی خدائی میں انسان کم زمین زیادہ ہوتی تھی۔ ابھی مُلک وجود میں نہیں آئے تھے۔ مختلف قبیلے مختلف جگہوں پر ندیوں کے کنارے آباد ہوتے اور موسم کے مطابق یا کسی خطرے کے سبب کوچ کرتے تھے۔
اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا انسان کی فطرت اور جبلت میں شامل ہے۔ صدیاں گزرنے کے بعد اس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی, سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر کوئی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے تو طاقت کے مظاہرے کے طریقے میں آئی ہے۔ پہلے انسان فقط اپنے بازو, اپنی ذاتی اور جسمانی طاقت کا مظاہرہ کرتا تھا۔ اکیلی ہی دس پندرہ لوگوں سے لڑنا, نہتے کسی شیر یا ہاتھی کو مارنا طاقت کے مظاہرے کے مخصوص طریقے ہوتے تھے۔ جدید اور سائنسی دور میں انسان اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیے نئے طریقے ایجاد کرتا ہے۔
ماسکو, واشنگٹن, بیجنگ, فرانس, لندن, دہلی اور دنیا کے کئی ملکوں کے کئی شهروں میں مخصوص موقعوں پر فوجی پریڈیں دیکھ کر میں بہت حیران ہوتا ہوں۔ حیران اسلئے ہوتا ہوں, کہ انسان کی فطرت میں لاکھوں سال گزرنے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اپنی طاقت کی نمائش کی اُس کی اِس خواہش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ الٹا اُس کی خواہش امکان کے حد سے باہر نکل گئی ہے۔ ایک دوسرے کو مارنے کے لیے انسان نے جو خطرناک ہتھیار ایجاد کیے ہیں, اُن کا اُس نے اپنے ملک میں بڑے فخر اور تکبر سے نمائش کی ہے۔ ہر سپر پاور مُلک کی دعویٰ ہے کہ: میرے پاس ایسے ہتھیار ہیں جس سے میں میلوں دور کسی بھی مُلک پر حملا کر سکتا ہوں! اُسے تباہ کر سکتا ہوں! اور پھر فخر سے اُس موتمار ہتھیاروں کا مظاھرہ کیا جاتا ہے۔ جنگی جہاز, ہلیکاپٹر, ٹینکیں, توپیں, راکٹ, میزائل, بم, بارود! عزت اُس ملک کی ہے جس کے پاس ایک وار میں ہزاروں مرد, عورتیں اور بچوں کو مارنے جیسے ہتھیار ہیں۔ زندگی دینے کی بجائے زندگی چھیننے والی قوتوں کا دنیا پر راج ہے۔ کچھ نہیں بدلہ ہے۔ آج بھی ذہنی طرح طاقتور شخص, جسمانی طرح طاقتور شخص کے ماتحت ہے۔
ہم نے آج تک نہیں سنا, کہ کسی ملک کو سیاسی اور اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے ملک پر کبھی کسی پروفیسروں, سائنسدانوں, ڈاکٹروں, انجینئروں, دانشوروں, ادیبوں اور شاعروں نے قبضہ کیا ہو۔
انسان آج بھی وہیں ہے, جہاں ہزاروں لاکھوں سال پہلے, پتھر والے دور سے بھی پہلے تھا۔ جب اُس کو اپنی جسمانی طاقت پر ناز تھا اور اُس کا اظہار اور مظاہرہ کرتا تھا۔ انسان کی مجموعی ارتقا میں ہمیشہ کی طرح, ذہن جسمانی قوت کا غلام اور ماتحت ہے۔
قریب میں ہم نے قلم کو کلاشنکوف سے معافی مانگتے دیکھا ہے۔ ۔۔۔۔
اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا انسان کی فطرت اور جبلت میں شامل ہے۔ صدیاں گزرنے کے بعد اس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی, سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر کوئی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے تو طاقت کے مظاہرے کے طریقے میں آئی ہے۔ پہلے انسان فقط اپنے بازو, اپنی ذاتی اور جسمانی طاقت کا مظاہرہ کرتا تھا۔ اکیلی ہی دس پندرہ لوگوں سے لڑنا, نہتے کسی شیر یا ہاتھی کو مارنا طاقت کے مظاہرے کے مخصوص طریقے ہوتے تھے۔ جدید اور سائنسی دور میں انسان اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیے نئے طریقے ایجاد کرتا ہے۔
ماسکو, واشنگٹن, بیجنگ, فرانس, لندن, دہلی اور دنیا کے کئی ملکوں کے کئی شهروں میں مخصوص موقعوں پر فوجی پریڈیں دیکھ کر میں بہت حیران ہوتا ہوں۔ حیران اسلئے ہوتا ہوں, کہ انسان کی فطرت میں لاکھوں سال گزرنے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اپنی طاقت کی نمائش کی اُس کی اِس خواہش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ الٹا اُس کی خواہش امکان کے حد سے باہر نکل گئی ہے۔ ایک دوسرے کو مارنے کے لیے انسان نے جو خطرناک ہتھیار ایجاد کیے ہیں, اُن کا اُس نے اپنے ملک میں بڑے فخر اور تکبر سے نمائش کی ہے۔ ہر سپر پاور مُلک کی دعویٰ ہے کہ: میرے پاس ایسے ہتھیار ہیں جس سے میں میلوں دور کسی بھی مُلک پر حملا کر سکتا ہوں! اُسے تباہ کر سکتا ہوں! اور پھر فخر سے اُس موتمار ہتھیاروں کا مظاھرہ کیا جاتا ہے۔ جنگی جہاز, ہلیکاپٹر, ٹینکیں, توپیں, راکٹ, میزائل, بم, بارود! عزت اُس ملک کی ہے جس کے پاس ایک وار میں ہزاروں مرد, عورتیں اور بچوں کو مارنے جیسے ہتھیار ہیں۔ زندگی دینے کی بجائے زندگی چھیننے والی قوتوں کا دنیا پر راج ہے۔ کچھ نہیں بدلہ ہے۔ آج بھی ذہنی طرح طاقتور شخص, جسمانی طرح طاقتور شخص کے ماتحت ہے۔
ہم نے آج تک نہیں سنا, کہ کسی ملک کو سیاسی اور اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے ملک پر کبھی کسی پروفیسروں, سائنسدانوں, ڈاکٹروں, انجینئروں, دانشوروں, ادیبوں اور شاعروں نے قبضہ کیا ہو۔
انسان آج بھی وہیں ہے, جہاں ہزاروں لاکھوں سال پہلے, پتھر والے دور سے بھی پہلے تھا۔ جب اُس کو اپنی جسمانی طاقت پر ناز تھا اور اُس کا اظہار اور مظاہرہ کرتا تھا۔ انسان کی مجموعی ارتقا میں ہمیشہ کی طرح, ذہن جسمانی قوت کا غلام اور ماتحت ہے۔
قریب میں ہم نے قلم کو کلاشنکوف سے معافی مانگتے دیکھا ہے۔ ۔۔۔۔
![]() |
| Sindhi Prose |

No comments:
Post a Comment