Wednesday, 8 May 2019

Urdu Poetry


ترے خیال میں اتروں گی میں وحی کی طرح

صلیب شب پہ ہوں مصلوب چاندنی کی طرح 
میں تیرگی کے مقابل ہوں روشنی کی طرح

گزار دی ہے تیرے در پہ زندگی میں نے
کسی کتاب میں رکھی ہوئی کلی کی طرح

تو کوئی بول ہے تار نفس پہ چھیڑا ہوا
جو میری روح میں گونجا ہے راگنی کی طرح

ابھی تو رات کے پہلو میں نیند باقی ہے
ابھی تو خود کو بجانا ہے بانسری کی طرح

یقین جانو عبادت سے کم نہیں ہوتا 
بشر بشر سے ملے جب بھی آدمی کی طرح

وفا کی لوح پہ لکھا ہوا صحیفہ ہوں 
ترے خیال میں اتروں گی میں وحی کی طرح

یہ کس مقام پہ لے آئیں چاہتیں ہم کو
کہ ان کہی بھی لگے اب تو آگہی کی طرح

~Dia~
Urdu Poetry
Urdu Poetry

No comments:

Post a Comment