ترے خیال میں اتروں گی میں وحی کی طرح
صلیب شب پہ ہوں مصلوب چاندنی کی طرح
میں تیرگی کے مقابل ہوں روشنی کی طرح
گزار دی ہے تیرے در پہ زندگی میں نے
کسی کتاب میں رکھی ہوئی کلی کی طرح
تو کوئی بول ہے تار نفس پہ چھیڑا ہوا
جو میری روح میں گونجا ہے راگنی کی طرح
ابھی تو رات کے پہلو میں نیند باقی ہے
ابھی تو خود کو بجانا ہے بانسری کی طرح
یقین جانو عبادت سے کم نہیں ہوتا
بشر بشر سے ملے جب بھی آدمی کی طرح
وفا کی لوح پہ لکھا ہوا صحیفہ ہوں
ترے خیال میں اتروں گی میں وحی کی طرح
یہ کس مقام پہ لے آئیں چاہتیں ہم کو
کہ ان کہی بھی لگے اب تو آگہی کی طرح
~Dia~
![]() |
| Urdu Poetry |

No comments:
Post a Comment