Sunday, 11 August 2019

Urdu Poetry



"بارشیں تو ہوتی ہیں بارشوں کے موسم میں"

چاہتیں بچھڑتی ہیں ہجرتوں کے موسم میں
آشیاں بکھرتے ہیں آندھیوں کے موسم میں

وحشتیں جدائی کی چین سے نہ رہنے دیں
ہر گھڑی قیامت ہے فرقتوں کے موسم میں

آنسوؤں کے بہنے پر میری جان حیرت کیوں
"بارشیں تو ہوتی ہیں بارشوں کے موسم میں"

خاک و خون میں لتھڑے جسم یہ بتاتے ہیں
بستیاں اجڑتی ہیں وحشتوں کے موسم میں

ساتھ اس کا ہر اک پل جب ہمیں میسر تھا
وہ بھی وقت گزرا ہے چاہتوں کے موسم میں

ایک ہی دیا روشن ہے تری محبت کا
ورنہ زیست تھی مشکل نفرتوں کے موسم میں

دل کی بے کلی عارف آج بڑھ گئی حد سے
سانس لیں گے جانے کب راحتوں کے موسم میں

عارف نسیم فیضی
Urdu Poetry

No comments:

Post a Comment