میں کیسا پاکستان دیکھنا چاہتی ہوں
تحریر: آسیہ مانو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تمنا ہے ایک ایسے وطن کی جس کی فضاٶں میں بارود کی بو نہ ہو۔ ایک ایسا وطن جس میں کچی کلیوں کو مسلا نہ جاٸے۔جس کے عوام ٹیکسوں کے کوہِ گراں تلے دبے ہوٸے نہ ہوں۔ جس وطن کے باسیوں کی ہر سانس آٸی ایم ایف کے قرضوں کی مقروض نہ ہو۔میری خواہش ہے ایک ایسے پاکستان کی جس کے ہر شعبہ زندگی میں سفارش کے مقابلے میں میرٹ کو اہمیت دی جاٸے۔ جس وطن میں تلوار سے زیادہ قلم کی اہمیت ہو۔جس کی مسجدوں کی صفیں نمازیوں سے خالی نہ ہوں۔جس وطن میں خون آشام درندے آرمی پبلک سلوک پشاور کی طرح وطن کے نونہالوں کو خون میں نہ نہلاٸیں۔جو صحیح معنوں میں مدینہ کی ریاست کی عملی تفسیر ہو۔ جہاں آزادٸ راٸے کا حق ہر شہری کو حاصل ہو۔ایسا وطن جہاں غربت غریب کی بیٹی کے ہاتھ پیلے ہونے سے پہلے اس کے بال سفید نہ کردے۔جہاں مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اسے اجرت تھما دی جاٸے۔ جس وطن کی سیاست ریاکاری منافقت اور کردار کشی سے پاک ہو۔جس وطن میں جنت کا سودا خودکش بمباروں کی بنا پر نہ ہو ایمان کی عملی تربیت کی بدولت ہو۔ میں ہر لحاظ سے اپنے مادرِ وطن کو بے مثال دیکھنا چاہتی ہوں۔ جوسلامت رہے تا قیامت رہے۔آمین

عمدہ مثبت سوچ۔۔۔۔۔۔
ReplyDeleteاللہ عمل کی توفیق دے