خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
تحریر: اطہر قاضی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم قاری انگریزی کے دو الفاظ ہیں jingoism اور patriotism قومی شعور کا تقاضہ ہے کہ ہر ہم وطن کو ان میں فرق معلوم ہو۔ وطن سے محبت اک فطری امر ہے ہماری تین بیٹیاں جو ماشااللہ ابھی بچپن کے بےفکرے مراحل سے گزر رہی ہیں وہ بھی آزادی کے موقع پر سبز و سفید سوٹ ضرور سلواتی ہیں۔
اور یہ رنگ ان پر کیا بھلے معلوم پڑتے ہیں یہ کچھ ہمارا دل ہی جانتا ہے۔۔ مرد و زن بیجز لگا کر
آزادی کی خوشی مناتے ہیں۔۔ ہم گھروں کی چھتو ں پر سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں کہ یہ صرف علم نہیں بلکہ ہماری آزادی کا علمبردار ہے۔۔۔ اب یہ تو ہوا حب الوطنی کے اظہار کا ایک انداز جو یقینًا ً قابل تعریف ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔۔ پر ایک اس سے آگے کی کیفیت ہے۔۔ کہ آپ خود کو اللہ کی منتخب قوم تصور کرنے لگتے ہیں اور باقیوں پر دھڑلے سے فتوؤں کا آرا چلا دیتے ہیں۔ یہ صورت حال نا قابل تحسین ہی نہیں بلکہ باعث تشویش ہے۔ یاد رہے کہ یہ جنونی کیفیت وطن کی خدمت ہرگز نہیں بلکہ ذاتی اور اجتماعی زوال و تباہی کی بنیاد ہے۔۔ اللہ کی چہیتی قوم بھی جب حد سے گزرتی ہے تو صحراؤں میں بھٹکنا اس کا مقدر کر دیا جاتا ہے۔۔۔ جھوٹی انا اور غرور ہمیشہ باعث ذلت ہوا کرتا ہے۔۔۔ حالات حاضرہ میں کشمیر کا ایشو اس کی بہترین مثال ہے ہمارے سر بکف مجاہد سوشل میڈیا پر جہاد فرما کر دشمن کے دانت کھٹے کر رہے ہیں مگر اس کا کیا کریں کہ دشمن کا بال بیکا ہوا نہ ہمارے شور و غوغا سے اس کے کان پر جوں ہی رینگی۔۔۔
آئیے گردش ایام کو آواز دیں۔۔ یہ تقسیم سے پہلے کا منظر نامہ ہے۔۔
پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الہ الا اللہ
یہ تھا وہ نعرہ جس کی بنیاد پر پاکستان حاصل ہوا تھا۔۔ آپ یقینا جانتے ہوں گے کہ وطن عزیز کا مکمل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔۔۔ کون سا اسلام؟ تاریخ کے جھرونکوں سے اک منظر ابھرتا ہے۔۔ یہ محمد ہیں۔۔ ان کے تعارف کے لئے یہی کافی کہ قیامت تک ان کا نام نامی جہاں بھی لیا جائے گا تو مسلمانوں کی زبان پر صلی اللہ علیہ وسلم جاری ہو گا۔۔۔ مکہ کی گلیوں سے گزر تے ہیں۔۔ اک بڑھیا روزانہ اپنے گھر کی چھت سے آپ پر کوڑا پھینکتی ہے۔۔ نبی کریم صبر فرماتے ہیں۔۔ یہی نہیں بلکہ ایک دن بڑھیا کوڑا نہیں پھینکتی تو فکر مند ہو جاتے ہیں اس کے گھر جا کر نہ صرف اس کی عیادت کرتے ہیں بلکہ گھر کی صفائی بھی کرتے ہیں۔۔ نتیجہ بڑھیا اسلام قبول کر لیتی ہے۔۔ اللہ اللہ اخلاق حسنہ۔۔۔۔ ہاۓ افسوس کہ ہم اسے واقعہ خیال کر کے پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔طائف والوں کا نبی کریم سے سلوک اور جوابی دعا سے کون واقف نہیں؟؟؟ یہ ہے اسلام کا رخ روشن۔۔
اب واپس حال میں آجا ئیں قادیانی بجا طور پر غیر مسلم قرار دئے جاتے ہیں مگر اس کے بعد بھی ان کو اقلیتی حقوق دینے میں ہمیں تامل ہے۔۔ عیسائی افراد کو توہین رسالت کے الزام میں ایک آدمی کے الزام پر مجمع خود ہی گواہ ، وکیل اور جج بن کر سنگسار کر دیتا ہے۔۔ ہندو نابالغ لڑکیوں کو جبرا نکاح میں لانے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔۔۔ صاحبو یہ ہرگز وہ اسلام نہیں جس پر وطن عزیز کی بنیاد رکھی گئی تھی۔۔۔
14 اگست 1947 کو آزاد ہونے والے پاکستان کا حلیہ تو ہم نے 71 میں ہی بگاڑ دیا تھا ۔ لاریب 16 دسمبر قومی تاریخ میں ایک المناک اور سیاہ ترین دن تھا۔۔ ہماری نسل جس نے اس حادثے کے پیش آنے کے اک دہائی بعد آنکھ کھولی مگر سچ پوچھیں تو واقعات پڑھ کر آج بھی آنکھ نم اور دل احساس ندامت سے بوجھل محسوس ہوتا ہے۔۔ ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس غلطی سے کچھ سیکھا؟ ایک کہاوت ہے کہ نئ بنیاد اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی کہ جب تک آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے والی بنیاد کیسے بیٹھی۔۔ آج کیا وطن عزیز میں شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں؟ چلیں یہ تو دلی دور است والا معاملہ ہے مگر اے ارباب بست و کشاد کم از کم ان کی عزت نفس سے تو خدا را نہ کھیلیں۔۔
جہاں تک عوام کی بات ہے تو آپ بھلے پاکستان کے کسی بھی گوشے میں رہ رہے ہوں دوسروں کا درد اپنے سینوں میں محسوس کریں۔۔ بڑے کارناموں کے خواب دیکھ کر وقت ضائع نہ کریں بلکہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں جو اپنے معاشرتی دائرے میں رہ کر کر سکتے ہیں کر ڈالیں۔۔گلاب کا پھول بننے کی تمنا خوب مگر وہ کھاد بننے میں بھی کوئی قباحت نہیں جو بظاہر کسی کی نظر میں نہیں آتی مگر پودے کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔۔ مقرر نے مجمع سے سوال کیا آپ وطن کیلئے کیا کر سکتےہیں؟
جذباتی لوگ یک زبان ہو کر گویا ہوئے جان دے دیں گے۔۔
خطیب مسکرایا اور تحمل سے گویا ہؤا۔۔ آپ وطن کیلئے زندہ کیوں نہیں رہتے۔۔۔ ایمانداری، انصاف، خود داری اور برابری والی زندگی؟؟؟ مجمع کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔
صاحبو آئیے کوشش تو کریں۔۔
اشفاق احمد مرحوم کی اس دعا کے ساتھ اجازت کہ اللہ تعالی ہمیں آسانیاں عطا فرمائیں اور آسانیاں بانٹنے کا شرف عطا فرمائیں۔۔۔ والسلام
No comments:
Post a Comment