' بھلکڑ'
تحریر: اطہر قاضی
کئ سال ادھر کی بات ہے اک بڑے میاں کی کہانی پڑھی تھی جو اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی کہیں رکھ کر بھول گۓ تھے۔۔ اب چونکہ ان دنوں بینک نہیں ہوتے تھے سو انہیں یہ پریشانی اٹھانا پڑی۔ کئ دفعہ ان کو رقم کی اشد ضرورت محسوس ہوئی پر یاد تھی کہ آکر نہ دی کہ رقم کو کہاں چھپایا ہے۔ کرنا خدا کا کچھ یوں ہوا کہ ایک رات ان کے گھر کچھ چور در آۓ اور لگے صحن کی کھدائی کرنے۔۔ کدال کی آواز سے بڑے میاں کی آنکھ کھل گئی۔۔ اب جناب پہلے تو چوروں کے دیکھ کر ان کی گھگھی بندھ گئی مگر جب اپنی زندگی بھر کی کمائی اپنے ہی صحن سے برآمد ہوتے دیکھی تو فر ط مسرت سے ان کے حلق سے ایسی واشگاف چیخ خارج ہوئ کہ چوروں کو بھی سب کچھ چھوڑ بھاگنا پڑا اور بزرگوں کو دولت گم گشتہ پھر ہاتھ آئی۔۔
صاحبو! قصہ سنانا مدعا نہیں بلکہ بتانا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہرگز ضروری نہیں کہ بھول جانے کا مرض بڑھاپے میں ہی حملہ آور ہو بلکہ یہ موذی عین عنفوان شباب میں بھی حملہ آور ہو سکتا ہے ۔دور کیا جانا ہماری ہی مثال لے لیں۔۔۔ مسکراہٹپروفیسر حضرات کے بھلکڑ پن کے لطایف تو آپ نے یقینا سن رکھے ہوں گے کہ اس معاملہ میں یہ طبقہ خاصہ بدنام ہے۔۔ اس میں اک حد تک حقیقت بھی ہے مگر کچھ عاقبت نااندیشوں نے انتہا ہی کر دی جیسا کہ اک پروفیسر صاحب کے متعلق روایت ہے کہ ان کو یاد نہیں رہتا تھا کہ وہ کالج جا رہے ہیں یا واپس آ رہے ہیں سو اس بات کی تہہ تک پہنچنے کے لئے وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ٹفن کو ٹٹولتے کہ اگر خالی ہے تو مطلب گھر جانا ہے اور اگر کھانا موجود ہے تو کالج۔۔۔۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے کیا کہیئے
اب خیر سے ہمیں بھول جانے کا عارضہ بھی لاحق ہے اور اوپر سے پڑھنے پڑھانے کا شغل بھی کار روزگار کی صورت ساتھ ساتھ ہے۔۔ گویا اک کریلا اور دوسرا نیم چڑھا۔۔۔
جو اشیاء ہم سے اکثر کھو جاتی ہیں ان میں سرفہرست رومال ہے۔۔ بیگم صاحبہ بڑی چاہ کے ساتھ رومال خرید کے لاتی ہیں اور ہم اتنے لاپرواہ کہ سنبھالا نہیں جاتا۔۔ جو حضرات اب بھی رومال کو معمولی شے متصور کرتے ہیں غالباً ان کی نظروں سے شیکسپیئر گرانقدر تصنیف Othello نہیں گزری ورنہ انہیں خبر ہوتی کہ تاریخ میں معمولی اشیاء سے بعض اوقات کتنے غیر معمولی واقعات نے جنم لیا۔۔ مسکراہٹ
گھڑی اور موبائل فون تو ہمارے بھلکڑ پن کا اتنی دفعہ نشانہ بنے کہ اب تو اول الذکر کا استعمال ہی ترک کر دیا ہے۔۔ الحمداللہ آنکھوں کی روشنائی ابھی اتنی ہے کہ چشمے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی مگر گرمی کی شدت سے بچنے خاطر سن گلاسز کا استعمال کر لیتے ہیں پر کم کم ہی ایسا خوشگوار حادثہ ہوا کہ چشمے نے سارا سیزن ساتھ نبھایا ہو۔۔۔ اس فہرست میں بٹوہ بھی شامل کر لیں بٹوہ کہیں رکھ کر بھول جانے کی عادت سے ہم اتنے آزار ہوئے کہ اب اس کو رکھنے کا جھنجھٹ ہی ختم کر دیا۔۔۔ گزشتہ سے پیوستہ سیشن میں اک رفیق کار نے اک لیدر والٹ یہ کہہ کر ہدیہ کیا کہ اس کو ہمارا جیب میں ایسے ہی پیسے رکھنا مناسب نہیں معلوم پڑتا۔۔۔ شرمندگی
ذی قدر قارئین بتانا یہ تھا کہ اس معاملے میں ہم معروف امریکی شاعرہ محترمہ الزبتھ بشپ کے مقلد ہیں۔ انہوں نے اک شاہکار نظم بعنوان One Art
تخلیق کی۔۔ صاحبو موصوفہ نے جو منفرد خیال باندھا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ ہم جیسے جو چیزیں کھو دینے کو بیماری سمجھتے تھے ان کو وہ کچھ یوں تسلی دیتی ہیں کہ گھبرایں مت یہ تو اک فن ہے۔۔۔ ان کا مشورہ ہے کہ آپ روز مرہ کی بنیاد پر اس کی پریکٹس کریں۔۔ معمولی اور غیر اہم اشیاء سے آغاز کریں جیسے گھر یا دفتر کی چابیاں دانستہ کھو دیں۔۔ اور پھر بتدریج بڑی اوراہم اشیاء کھوتے چلے جائیں۔۔ اس معاملے میں وہ اپنی مثال دیتی ہیں کہ وہ اب تک دو گھر۔۔ کئ شہر اور اک براعظم کھو چکی ہیں اور سلامت بلکہ خوش ہیں۔۔۔ موصوفہ آخری شعر میں اپنے محبوب کو مخاطب کر کے ازراہ تفنن کہتی ہیں کہ تم بھی کھو گۓ تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔۔ دیکھ لیں محترمہ محبت کے کس مقام پر فائز ہیں۔۔ اللہ اللہ
اور اب آخر میں ایک حالیہ واقعہ جسمیں ہمیں شبہہ ہے کہ تعریف سے زیادہ تضحیک کا پہلو نکلتا ہے مگر اب آپ سے کیا پردہ ہم کشمیر میں چند دن گزار کرواپس اٹک آۓ تو اگلے روز بیگم صاحبہ کا موڈ خلاف معمول کافی خوش گوار پایا ۔۔ بچوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک عدد چاکلیٹ سے ہمیں بھی نوازا تو ہم اس ادائے دلبرانہ کی وجہ پوچھنے پر مجبور ہوگئے۔۔ جس پر وہ کچھ یوں گویا ہوئیں کہ اس دفعہ خیر سے آپ اپنی ساری اشیاء بسلامت واپس لے آئے اب چونکہ یہ حرکت آپ سے تاریخ میں پہلی دفعہ سرزد ہوئی سو چاکلیٹ تو بنتی۔۔۔ مسکراہٹ
No comments:
Post a Comment