" مخمصہ "
تحریر: اطہر قاضی
محبوب کے بال اردو ہی نہیں انگریزی شعراء کا بھی من پسند موضوع رہاہے۔
فضیلت الشیخ شیکسپیئر سے شروع کریں؟؟؟ موصوف نے wig sonnetکے عنوان سے اک تخلیق چھوڑی مگر سچ پوچھیں تو قبلہ نے اس معاملے میں خاصا مایوس کیا شاید اس کی اک وجہ یہ بھی ہے اس دور کے کھیلوں میں صنف نازک کا کردار بھی لڑکے بالے ادا کرتے اور سر پر مصنوعی وگ وہ بہار دکھلاہی نہیں سکتی تھی جو شاعر کو زلف دراز کا کامیاب قصیدہ لکھنے کی ترغیب دیتی۔۔سو قاری کے ذہن میں وہ جذبات پیدا نہ ہونا فطری امر ہے۔۔۔
صاحبو!!! ہم نے بہت تلاشا کہ کہیں بالوں کی سفیدی کے حق میں بھی کوئی غزل نہ سہی شعر ہی مل جاۓ مگر کہاں جناب W. B. Yeats
جیسے سنجیدہ مزاج بزرگ بھی وہی روایتی زلف والا مضمون باندھتے نظر آۓ۔۔ اور تو اور ملک الشعراء فلپ لارکن تک کو ناشتے کا انتظار صرف اس لئے کرنا پڑا کہ محترمہ بال سنوارنے میں مصروف تھیں۔۔۔ (لو کر لو گل)
یہ سوچ کر خواتین شعراء پر نظر دوڑائی کہ شاید کو استثنای صورت میسر ہو مگر Elizabeth Browning
بھی محبوب کو یہ خوشخبری سناتی نظر آئیں کہ زندگی بھر انہوں نے بالوں کی لٹ کا تحفہ اور کسی کو نہ دیا!!!
عزیزو آپ سوچ میں ہوں گے کہ اس غیر ضروری تمہید کا مدعا کیا ہے؟؟؟
تو جناب من قصہ کوتاہ کچھ یوں ہے کہ عمر عزیز کی اب اڑتیس بہاریں گزر چکیں اور بالوں میں سفیدی محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً جھلکنا شروع ہو گئی لالہ عارف کی موت پر شاعری پڑھ پڑھ کر اثر یہ ہوا کہ ہم نے shave
کی جگہ خط کرا لیا ۔۔۔ بالوں کی سفیدی بڑھی تو بے نیازی بھی بڑھی کہ اب کون رنگسازی کی مشقت سے گزرے۔۔۔ مگر کہاں جناب باقی ناہنجاروں کی پھبتیاں چھوڑیں ان کو تو ہم نے کبھی درخوراعتناء نہ سمجھا کہ ہر دور میں شرفاء کے صبر کا امتحان ہوا کیا ہے۔۔۔ مگر بات کہ گھر تک آپہنچی۔۔۔ عنایہ زینب منجھلی صاجزادی ہیں عمر پورے چار برس وہ اس فرق کو ذرا دیکھئے کہ کس کمال معصومیت سے واضح کرتی ہیں کہ بال رنگے ہوں تو انداز تخاطب بابا جان ہوتا ہے اور سفیدی دکھائی پڑے تو بابا جی کا خطاب ملتا ہے۔۔ مسکراہٹ
انشال حریم جو ماشااللہ بڑی بٹیا ہیں اور نرسری میں پڑھتی ہیں وہ مارکر اٹھا کہ پہنچ جاتی ہیں کہ بابا کے بالوں کو سیاہ کرنے کا گویا یہ نادر نسخہ ہے۔۔۔ ادھر ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ بالوں کی سفیدی سے بندہ ذرا دانشور سا لگتاہے سو یہی سوچ کر بے پرواہ پھرا کئے۔۔۔ مگر کہاں جناب وہ جو اپنے اسرارالحق مجاز فرما گۓ ہیں نا۔۔۔۔
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا
تیری زلف کا پیچ و خم نہیں ہے
سو جناب حتمی ایکشن ہوم منسٹری نے لیا ۔۔۔ اول اول انہوں نے اشارتاً کہا کہ بالوں کی سفیدی کا کچھ علاج کریں۔۔۔اس حکم عدولی کا نتیجہ یہ نکلا کہ موصوفہ ایک دن خود ہی سازوسامان لےکر داڑھی کو رنگنے بیٹھ گئیں۔۔ گو کہ یہ عمل ہمارے لئے نہایت فرحت بخش رہا مگر محترمہ نےاس دوران ٹھیٹھ پنجابی میں اک جملہ ایسا ارشاد فرمایا کہ جو اس ساری تحریر کا محرک ثابت ہوا۔۔۔ ان کے فرمان کا آزاد اردو ترجمہ کچھ یوں ہوگا۔۔۔
"آپ غالباً دنیا کے پہلے مرد ہیں جو اپنی ہی زوجہ کے ساتھ منہ کالا کر رہے ہیں"
صاحبو اس بیان کا ادبی لطف اپنی جگہ مگر ہم تب سے اس کنفیوژن میں ہیں کہ اس کو اپنی شرافت کی سند سمجھیں یا عاشقی کے میدان میں اپنی نااہلی پر محمول کریں۔۔۔
کوئ بتلاو کچھ کہ ہم بتلایں کیا۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment