...
واہم
یاداشت کے تادیبی کنارے پہ کھڑے ہو جو ہم نے سنی اس
کٹتی کال کے دم توڑتے سگنل جو
آسمانی بجلی گرانے میں ید طولی رکھتے ہوں
ان کی بکھرتی چالوں کی کھوئی سرسراہٹ
جو امید کی فصل کو کھا گئی
محاروں کے لامتناہی سلسلے کی پہلی کڑی
بہرے کانوں میں گھنٹیاں بجا کے
الارموں کا شہر بسا کے کہہ چکی ہو گی
ہمارا دکھ تمھارے سکھ سے کہیں بڑا ہے
جیسے ساون کے حبس میں پیپل کی چھاوں کا جوگ
ماس پگھلاتی دھوپ میں دہقانوں کو
کسی جوگی کو کسی سپیرے کو
مشکی سانپ کے کاٹے سے مکت کرتا ہے
جیسے اونچے راگ کی تان
سانسیں رگیں خونی گردشیں
کسی ساعت کے تیسرے حصے میں
سولی پہ لٹکا دیتی ہے تیاگ چڑھا دیتی ہے
کسی سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جو چپ لگتی ہے
سارے بخیے ادھیڑ دیتی ہے
ایسے ایسے رستے زخم نکل آتے ہیں
جن پہ ٹانکے نہیں بھرے جا سکتے
ان دنوں کے زخم رفو کا دم نہیں بھرتے
وہ جانتے ہیں انکے جراثیم
کسی وائرس کسی بیکڑیا
کسی خلیے کسی سلسلے کے شمار میں نہیں آتے
منصور ارحم
...
No comments:
Post a Comment