Tuesday, 3 September 2019

Urdu Poetry


خاک شکوے گلے سنانے ہیں
خاک شکوے گلے سنانے ہیں
پاس رہنے کے یہ بہانے ہیں

چھوڑ! جو رکے نہ آہ سن کر
ایسے کئی لوگ آنے جانے ہیں

سر وہ کاٹیں کہ تاج پہنائیں
اب تو سر ہی ہمیں جھکانے ہیں

تیری چاہت پیاسا مقتل ہے
جہاں ارمان کام آنے ہیں

دیکھ ہم کو وعظ نہ کر واعظ
ہم اشارات سارے جانے ہیں

دل سے نکلی نہ کچھ دعا اپنے
تہمتوں کو فقط آستانے ہیں

ہو نہ جائے الٹ کہیں تعبیر
خواب دیکھے سبھی سہانے ہیں

تم سے رشتے بہت ہی نازک ہیں
جس طرح بھی ہو اب نبھانے ہیں

دل سے نکلے تو سر پہ چڑھ جائے
عشق تیرے عجب ٹھکانے ہیں

جس جگہ موت کی بشارت ہے
ہم نے خیمے وہیں لگانے ہیں

~ حکیم شاکر ~
...

No comments:

Post a Comment