Wednesday, 1 January 2020

Urdu Poetry


یونہی بے ربط سے فقرے تھے اور باتیں سراسیمہ
نجانے کس لئے کل شب تھیں وہ آنکھیں سراسیمہ

نئی اک کربلا ہر دن بپا ہوتی ہے بستی میں
دعائیں خون آلودہ ہیں اور آہیں سراسیمہ

وہ دیکھو اس شجر کا حال بھی کچھ مجھ سے ملتا ہے
کہ پتے زرد گل افسردہ ہیں شاخیں سراسیمہ

بچھڑتے وقت کے منظر کی وہ تاثیر زہریلی
کہ اس ساعت کی ہیں اب تک سبھی یادیں سراسیمہ

کہاں پر لا کے چھوڑا کارواں کو رہنماؤں نے
منازل کہر میں گم اور ہیں راہیں سراسیمہ

کیلنڈر ہی بدلتے ہیں فقط ورنہ تو ہیں عارف
وہی وحشت زدہ صبحیں وہی شامیں سراسیمہ

محمد عارف نسیم فیضی
Urdu Poetry

No comments:

Post a Comment