Wednesday, 22 May 2019

Sindhi Prose

جنم
تحریر: امر جلیل
ترجمہ: سرمد علی

"سندھو۔"
"جی۔"
"کہتے ہیں تمہارا ذکر نا کروں, تمہارے بارے میں بات نا کروں."
"تو پھر کیا سوچا ہے تُم نے؟"
"کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔"
"کیوں؟"
" کیوں کہ جب ویتنام کا ذکر کرتا ہوں تب کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا, جب تمہارا ذکر کرتا ہوں تب الزاموں کی صلیب کندھوں پر اٹھانی پڑتی ہے "
"پھر میرا ذکر چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟"
"میری ادبی زندگی سے اگر تمہارا ذکر الگ کیا جائے, تو میرے پاس باقی کچھ نہیں بچے گا۔"
"ابھی کیا ملا ہے."
"درد کی میراث."
"تُم شاعری کیوں نہیں کرتے."
"مقدر میں نہیں لکھا."
"تقدیر کے قائل ہو؟"
"جب تک تم سے جدا نہیں ہوا تھا۔"
"اُس سے پہلے؟"
"ارادے کے سامنے کسی چیز کو حساب میں نہیں لاتا تھا۔"
"اُس کو تقدیر کے لکھے کی جگہ سزا کیوں نہیں سمجھتے ہو؟"
"کس بات کی سزا؟"
"محبت کی سزا"
"ہم محبت میں اپنی سزا خود مقرر کرتے ہیں۔ اور کوئی ہم کو کیا سزا دے سکے گا!"
" مجھے معلوم ہے تم محبت میں مرنے کے قائل ہو۔"
" میں تمہارے لیے ہر دور میں مرتا رہا ہوں سندھو۔"
"میرے بگل میں آ کر کیوں نہیں بیٹھتے؟"
"نہیں, میں تمہاری بگل میں نہیں, تمہارے سامنے بیٹھونگا۔"
"کیوں؟"
"ہم عبادتگاہ کو پیٹھ نہیں دکھاتے."
"حق پر لوگ تمہیں کافر سمجھتے ہیں!"
"میں مومن کب تھا!"
"لیکن پھر بھی لوگوں کا لحاظ کیا جاتا ہے."
"میں منافق نہیں ہوں, میں نے تم سے محبت کی ہے۔"
"محبت کے میدان میں تم اکیلے تو نہیں ہو!"
"میں محبت کے میدان میں مرنے والوں کے قافلے میں شامل ہوں۔"
"لیکن تم تو زندہ ہو!"
"یہ میرا نیا جنم ہے, میں تمہاری محبت میں پھر مرونگا اور پھر جنم لے کر لوٹ آؤنگا۔ تمہارے لیے میرا جینے اور مرنے کا یہ سلسلہ قیامت 
تک جاری رہیگا۔"
Sindhi Prose
Sindhi Prose

No comments:

Post a Comment