میں کیسا پاکستان چاہتا ہوں
تحریر: عارف نسیم فیضی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھکا دینے والے دن کا اختتام ایک خوش گوار شام پر ہوا۔ کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اور نرم ہوا چل رہی تھی۔ میں لان میں اپنے پسندیدہ گوشے میں بیٹھا تھا۔عکس نے چائے بنا کر دی۔ گرما گرم چائے نے اپنی ہلکی ہلکی گرمائش رگ رگ تک پہنچا دی۔
میں نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور اخبار اٹھا کر پڑھنا شروع کیا۔ کچھ سارے دن کی تھکن اور کچھ چائے کا ٹکور۔ اخبار پڑھتے پڑھتے میری آنکھ لگ گئی۔
--
میں ایک ایسے انوکھے بازار موجود تھا جہاں خوابوں کا بیوپار ہورہا تھا۔
کیا ہی خوب صورت بازار تھا۔ برے خواب دیکھنا کوئی پسند نہیں کرتا اور منڈی تو چلتی ہی گاہک کی پسند پر ہے۔ سو اس بازار میں جتنے بھی خواب دستیاب تھے، کچھ مہنگے تھے، کچھ سستے لیکن سارے نہایت ہی خوب صورت تھے . ریشمیں- نیلمیں- نرمگیں خواب- اور مزے کی بات یہ کہ ہر خواب کے ساتھ گارنٹی موجود تھی کہ جو بھی خواب خریدا جائے گا خریدار کی باقی زندگی اسی خواب میں ہی گزرے گی۔
بلا کی بھیڑ تھی یہاں۔ لیکن ایک کامل سکون بھی تھا۔
کوئی دھکم پیل نہیں، کوئی افراتفری نہیں۔
ہر کوئی یا تو اپنے پسندیدہ خوابوں کی دکان پر حاضر تھا اور یا تلاش میں مگن تھا.
بادہ خوار جس دکان پر موجود تھے وہاں ایسے خواب بک رہے تھے جن میں ایک خاص طرز کے میخانہ نما جزیرے تھے. یہ جزیرے مئے ناب کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے وسط میں موجود تھے۔ یہاں آسمان سے بھی بارش کی جگہ شراب برستی تھی اور زمیں کے سینے سے بھی پانی کی جگہ شراب کے چشمے ابلتے تھے ۔ یہاں تک کہ مکھیاں بھی شہد کی جگہ شراب کے چھتے بناتی تھیں.
حسن پرستوں کا جمگھٹا اس خواب کی تلاش میں سرگرداں تھا جہاں وصال کا موسم مستقل ٹھہر گیا ہو۔ جہاں فراق رت آنے کا ذرہ برابر امکان نہ ہو. جہاں نہ حسن کو زوال کا خدشہ ہو نہ عشق کو رد ہونے کا خطرہ ہو.
مجھے وہاں بھیڑ میں دور سے امیر شہر بھی نظر آیا۔ وہ ایک ایسی دکان پر کھڑا تھا جہاں اقتدار اور امارت کے خواب بک رہے تھے.
ایک دکان پر ایسے خواب بک رہے تھے جس میں ایک خوب صورت باغ ہوتا تھا- اس باغ میں درختوں پر پھلوں کی جگہ کتابیں اگتی تھیں۔ اس دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے زمین نے جیسے میرے پاوں جکڑ لیے لیکن میں نے قدم بڑھا دیے۔ میرا گوہر مقصود کچھ اور تھا- مجھے صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے ہم وطنوں کے لیے بھی ایک خواب کی تلاش تھی۔
شاید میرا انتخاب ہی نرالا تھا کہ جس بازار میں سبھی کی من مانگی مرادیں پوری ہورہی تھیں میں کئ دفعہ وہاں کی خاک چھاننے کے باوجود ابھی تک خالی ہاتھ کھڑا تھا.
میری تلاش ایک ایسی بستی تھی جہاں سکون ہو، عافیت ہو اور اطمینان ہو-
جہاں مسجد میں بھی امن ہو حجرے میں بھی امن ہو اور میکدے میں بھی امن ہو-
جہاں محبت ہو بھائی چارہ ہو-
جہاں ہر شخص دوسرے کے درد کا درماں ہو-
جہاں حسد کا نام نہ ہو-
جہاں کے لوگ نفرت کے نام سے بھی ناواقف ہوں-
جہاں ہر شخص کا پیٹ بھرا ہوا ہو اور دل مطمئن ہو-
جہاں بچے صبح سکول جاتے ہوں اور شام کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرتے ہوں۔
جہاں معصوم بچے بچیوں کا شکار کرنے والے درندے نہ ہوں.
جہاں بموں کا دھواں نہ ہو۔
جہاں آسمان سے اترتی بارش کی طرح خوشیاں بھی امیر شہر اور غریب شہر کے گھروں میں فرق روا نہ رکھتی ہوں.
جہاں امیر شہر ضمیرفروشی اور فقیہہ شہر فتویٰ فروشی کا کاروبار نہ کرتے ہوں۔
جہاں کے خطیب، ادیب اور شاعر محبت کے داعی ہوں۔
جہاں ہر شخص کی عزت نفس یکساں قیمت رکھتی ہو۔
جہاں کی بہار کا تسلسل نہ ٹوٹنے والا ہو.
جہاں کی ہوائیں خزاں سے ناواقف ہوں.
ابھی میں اس بازار میں گھوم ہی رہا تھا کہ اذانِ مغرب کی آواز نے مجھے جگا دیا.
اور میں نم آنکھوں کے ساتھ ڈوبتے سورج کو دیکھ کر سوچنے لگا، یا خدا کبھی ہمارا پاکستان اس خواب والی بستی جیسا بن پائے گا؟
نرم ہوا کے جھونکوں نے میرے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا؛
کیا یہ سوال خدا سے پوچھنا بنتا ہے؟
نرم ہوا کے جھونکوں نے میرے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا؛
کیا یہ سوال خدا سے پوچھنا بنتا ہے؟

بےشک خدا کے بجائے خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا ہم سب کو۔۔۔ فکر انگیز تحریر
ReplyDelete