Thursday, 14 November 2019

Urdu Poetry

۔۔
مرا قتل جب ہوا تھا میں وہیں پہ ہی کھڑا تھا
مرے دوست بھی وہیں تھے میں سبھی کو دیکھتا تھا

سبھی ایک ہو گئے تھے مرے دوست میرے دشمن
میں سمجھ گیا تھا پھر بھی میں خموش ہی رہا تھا


جنھیں زندگی تھا سمجھا وہی زندگی کے درپے
صلہ میری چاہتوں کا مجھے خوب ہی ملا تھا


نہ ہی ذہن میرے بس میں نہ ہی دل پہ میرا قابو
میں تو جیسے زندگی بھی کسی اور کی جیا تھا


مجھے دل میں اور اس میں فقط ایک کو تھا چننا
مرے ساتھ جو ہوا تھا وہ عجیب سانحہ تھا


مری زندگی میں جب بھی کوئی آگیا دوراہا
جو مرے ضمیر کا تھا وہی فیصلہ مرا تھا


مجھے ذہن و دل میں عارف کسی ایک کی تھی سننی
یہ نہ پوچھ کیسے گزرا بڑا سخت مرحلہ تھا

محمدعارف نسیم فیضی 

۔۔
Urdu Poetry

No comments:

Post a Comment