Thursday, 14 November 2019

Urdu Prose


''ربیع الاول نثری تحریر''
حضوراکرمﷺ کے معاشی شب و روز
تحریر: عارف نسیم فیضی
یوں تو آنحضرت ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ قابلِ ستائش اور ہر قول و فعل رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ آپ ایک ہی وقت میں ہادی بھی تھے اور مرسل بھی، غازی بھی تھے اور تاجر بھی، لیکن آپ ﷺ کی ساری زندگی اس لحاظ سے قابلِ صد افتخار ہے کہ آپ ﷺ اپنی عمر کے کسی بھی حصہ میں معاشی لحاظ سے کسی پر بوجھ نہیں بنے۔ آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے کام کرتے اور اپنی روزی خود کماتے-
بچپن میں
بچپن میں بھی آپ کام کاج میں خاندان کا ہاتھ بٹاتے تھے ۔آپ اپنے رضاعی بھائیوں کے ساتھ بکریوں کا ریوڑ چرانے جاتے- دس بارہ سال کی عمر میں آپ ﷺ نے بڑی سرگرمی سے اپنے چچا کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔
میدانِ تجارت میں
Urdu Prose

بارہ، تیرہ سال کی عمر میں آپ نے اپنے چچا کے ساتھ شام کا سفرکرکےتجارتی منڈیوں کا نشیب و فراز دیکھا۔ جوان ہوتے ہی آپ ﷺ نے تجارت کو بطور پیشہ اختیار کیا۔ آپ ﷺ کی دیانت و امانت کی وجہ سے لوگ اپنا سرمایہ آپ ﷺ کو شراکت کی غرض سے دیتے تھے۔آپ ﷺ نے شام اور یمن کے کئی کامیاب سفر کئے ۔
آنحضرت ﷺ تمام تاجرانہ حمیدہ سے موصوف تھے- آپ ﷺ نے نبوت جیسی عظیم ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تجارت کو بھی بطور ذریعہ معاش جاری رکھا تاکہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں۔ ہمیں بہت سے آپ ﷺ کے ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے بعد از بعثت آپ ﷺ کی تاجرانہ زندگی پر روشی پڑتی ہے۔
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں تھا اور میرا اُونٹ کثرتِ سفر کی وجہ سے بری طرح سے تھک چکا تھا، اس کی رفتار بہت سست تھی، آنحضرت ﷺ نے جب اونٹ کی یہ حالت دیکھی تو اسے ایک ضرب لگائی، بس پھر کیا تھا، اونٹ ایسی عمدہ رفتار سے چلنے لگا کہ اس سے پہلے کبھی ایسی رفتار نہ چلا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جابرؓ! تم یہ اونٹ مجھے ایک اُوقیہ میں فروخت کر دو۔‘‘ میں نے عرض کی جناب میں حاضر ہوں اور ساتھ یہ شرط بھی کر لی کہ میں گھر تک اس پر سواری کروں۔ میں نے مدینہ منورہ پہنچ کر اونٹ انقد قیمت لے کر ٓپ ﷺ کے حوالے کر دیا۔
حضرت عروہ بارقیؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نے مجھے ایک دینار دیا تاکہ میں آپ ﷺ کے لئے ایک بکری خرید لاؤں۔ میں نے دینار سے دو بکریاں خریدیں، ان میں سے ایک کو ایک دینار کے بدلے فروخت کر دیا۔ اور دوسری بکری اور ایک دینار لا کر آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پیش کر دی۔ آپ ﷺ نے بکری رکھ لی اور دینار اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کر دیا۔ اور میرے حق میں دُعا کی ’’کہ اللہ تعالیٰ تجھے تجارت میں ہمیشہ نفع بخشے۔‘‘ ۔
ایک مرتبہ آپ ﷺ غلہ منڈی میں گئے۔ وہاں غلے کا ایک انبار لگا ہوا دیکھا۔ آپ ﷺ نے اِسے اُلٹ پلٹ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اوپر اعلیٰ قسم کا غلہ اور نیچے ردی قسم کا۔ اس پر آپ ﷺ نے دوکاندار کو بلا کر تنبیہ فرمائی کہ یاد رکھو جو آدمی دھوکہ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
آپ ﷺ نے نبوت کی گوناگوں مصروفیات کے باوجود تجارت کو ترک نہیں کیا تھا بلکہ اسے بطور ذریعہ معاش تا دمِ آخر جاری رکھا جیسے کہ مذکورہ بالا واقعات سے عیاں ہے۔ آپ ﷺ صحابہ کرامؓ کو اصولِ تجارت سے آگاہ فرماتے اور انہیں تجارت کے اپنانے کا مشورہ دیتے۔
مالِ غنیمت کا خمس
ضور اکرم ﷺ کو خمس سے جو حصہ ملتا تھا، آپ ﷺ اس سے اپنی گھریلو ضروریات کو پورا فرماتے اور ازواجِ مطہرات کو سال بھر کا خرچہ دے کر باقی جو کچھ بچتا اِسے محتاجوں اور مفلسوں پر خرچ کر دیتے اور ضرورت سے زائد مال کو ایک دن کے لئے بھی گھر میں نہ رکھتےبلکہ اُسے فوراً بانٹ دیتے تھے۔
اراضی فدک
فے وہ مال ہے جو دشمنوں سے لڑے بھڑے بغیر حاصل ہو، جیسے صلح سے ا خراج کے طور پر مال ملے وہ سب مال فے کہلائے گا۔ اراضی فدک بھی مالِ فے ہے کیونکہ وہ بغیر جنگ و جدال مسلمانوں کے ہاتھ لگی تھیں۔
اہلِ فدک کو جب معلوم ہوا کہ مسلمانوں نے خیبر کو فتح کر لیا ہے تو انہوں نے محیصہ بن مسعود کے ذریعے مسلمانوں سے فدک کا تصفیہ شرائط پر ط کیا تھا جن شرائط پر خیبر کا معاملہ طے ہوا تھا، یعنی کھیتی باڑی اہلِ فدک کریں گے اور پیداوار کا نصف حصہ مسلمانوں کو ملے گا۔
اراضی فدک چونکہ مال فے تھا۔ اس لئے وہ خاص رسول اللہ ﷺ کی مِلک ٹھہری فدک سے جو آمدنی موصول ہوتی تھی آپ ﷺ اس سے اپنے قریبی اقرباء کو باقاعدہ حصہ دیتے اور ضرورت سے زائد مال کو عامۃ المسلمین کی فلاح و بہبود پر صرف کرتے تھے۔
فدک6 ھ کے آخر میں فتح ہوا تھا۔ یہ آپ ﷺ کے لئے مستقل آمدنی کا ذریعہ تھا۔ اس کی اراضی کو اپنے مسلمانوں میں تقسیم نہیں کیا تھا، کیونکہ یہ بوجہ مالِ فے آپ ﷺ کے لئے مخصوص تھا۔ اراضی خیبر کو آپ ﷺ نے غازیانِ اسلام میں تقسیم کر دیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق آپ ﷺ خیبر کی آمدنی سے بھی کچھ حصہ گھریلو ضروریات کیلئے لیتے تھے، کیونکہ خیبر کی بعض بستیاں فدک کی طرح ہاتھ آئی تھیں۔
اسی طرح اراضی بن نضیر بھی مالِ فے ہی تھا جو کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے مخصوص تھی۔ آپ ﷺ اس سے ازواجِ مطہرات کو نان نفقہ دیتے اور باقی تمام مال سے ملکی حفاظت و دفاع کی خاطر ہتھیار خریدتے اور فوجی ضروریات پر صرف کرتے تھے۔
تحائف
صحابہ کرامؓ، یہودی اور عیسائی جو چیزیں آپ ﷺ کو بطور تحفہ بھیجتے، آپ ﷺ اُسے قبول فرما لیتے مگر مشرک کا ہدیہ لینے سے انکار فرما دیتے۔ عموماً آپ ﷺ کو کھانے کی چیزیں، سواری کے جانور اور دیگر ضروریات کی اشیاء ہدیہ میں دی جاتی تھیں، گاہے بگاہے آپ ﷺ بھی انہیں تحفے ارسال فرماتے تھے۔
سلاطین کی طرف سے بھیجے ہوئے تحائف کو آپ ﷺ اپنے صحابہؓ میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ ہاں جو چیز آپ کو پسند ہوتی تھی وہ اپنے لئے رکھ لیتے تھے۔
شاہ نجاشی نے آپ ﷺ کو ہدیہ بھیجا، آپ ﷺ نے اُسے قبول فرمایا، اور اسکے بدلے خود بھی نجاشی کے لئے ہدیہ روانہ فرمایا، اسی طرح فروہ جذامی نے آپ ﷺ کو سفید خچر ہدیہ بھیجا جس پر غزوہ حنین میں آپ ﷺ سوار ہوئے تھے۔


No comments:

Post a Comment