Thursday, 14 November 2019

Urdu Prose


''ربیع الاول نثری تحریر''
بچوں کے ساتھ آپ ﷺکا مشفقانہ سلوک
تحریر : شمس تبریز
بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کے حسنِ سلوک کا جائزہ لیں تو علم ہوتا ہے کہ ہر لحاظ سے اکمل نبی کریم ﷺ اس معاملے میں بھی بہترین مربی ہیں- آپ ﷺ نے بچوں کے ساتھ نرمی و محبت کا درس نہ صرف اپنی تعلیمات کے ذریعہ دیا بلکہ عمل سے بھی اس کا ثبوت پیش فرمایا-
آپ ﷺکا فرمان ہے: جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں-
آپ ﷺ کے فرزند حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، حضرت عبد الرحمن بن عوف نے استفسار کیا: آپ بھی رورہے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا، اے ابن عوف یہ رحمت ہے، بلا شبہ آنسو بہہ رہے ہیں، دل غم زدہ ہے لیکن اس حالتِ غم میں بھی ہم وہی بات کہیں گے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو-
Urdu Prose بچپن کا زمانہ بے شعوری وبے خیالی کا زمانہ ہوتا ہے، اس زمانہ میں بچے بڑوں کے رحم وکرم کے محتاج ہوتے ہیں، بچے انھیں کو اپنا محسن سمجھتے ہیں جو انھیں اپنے قریب رکھتے ہیں، تربیت کا جو حسین موقع قربت وانسیت سے ممکن ہے، ڈانٹ ڈپٹ سے زجرو توبیخ سے اس کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی ہے، اسی لیے آپ ﷺکا حسنِ عمل یہی رہا کہ بچوں کو بالکل اپنے سے قریب رکھا حتی کہ بچوں کے کھیل کا بھی لحاظ کیا-
ایک دفعہ درمیان نماز آپ ﷺنے سجدہ طویل فرمایا، حضرت شداد فرماتے ہیں کہ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ (حسین ع) آپ ﷺکی پشت پر سوار ہے اور آپ ﷺسجدہ میں ہیں، لہٰذا میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا-
اقرع بن حابس نے دیکھا کہ آپ ﷺ حضرت حسن کو چوم رہے ہیں، یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ حضور ﷺ میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما، آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا-
ایک دفعہ آپ ﷺ حضرت حسن کو چوم رہے تھے ایک دیہاتی نے حیرت کا اظہار کیا تو فرمایا کہ اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت کو نکال دیا تو میں کیا کرسکتا ہوں۔
جب آپ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینب کا انتقال ہوا تو ان کی صاحبزادی امامہ سے آپ ﷺ بہت زیادہ محبت کا اظہار فرماتے، ان پر بہت زیادہ شفقت فرماتے، بعض دفعہ اپنے ساتھ مسجد بھی لے آتے، وہ آپ ﷺ پر حالت ِ نماز میں سوار بھی ہوجاتیں، جب آپ سجدہ میں جاتے تو انھیں نیچے اتار دیتے، جب قیام فرماتے تو کاندھے پر سوار فرمالیتے-
جہاں آپ ﷺ نے اپنے بچوں کے تئیں تعلق کا اظہار فرمایا، وہیں دیگر صحابہٴ کرام کی اولاد پر بھی نگاہِ شفقت ڈالی۔
صحابہٴ کرام کی عادتِ طیبہ یہ تھی کہ کسی کے گھر بھی ولادت ہوتی تو اس کو آپ ﷺکے پاس لے آتے آپ بچے کو لیتے، اسے چومتے اس کے لیے برکت کی دعا کرتے، اسی طرح جب بعض دفعہ دورانِ نماز بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ ﷺنماز میں تخفیف فرمادیتے-
آج تمام تر تنازعات کا حل حقوق کی ادائیگی پر موقوف ہے، ہر کوئی اپنے حق کا طالب ہے؛ لیکن دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے بیزار ہے ،آپ ﷺ نے نہ صرف اکابر کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دی بلکہ اصاغر کے حقوق ادا کرتے ہوئے امت کی توجہ اس جانب مبذول فرمائی کہ ہر ایک کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے،حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں : ایک دفعہ آپ ﷺکی مجلس میں پینے کی کوئی چیز لائی گئی، آپ ﷺنے اسے نوش فرمایا، اس کے بعد آپ ﷺ نے دیکھا کہ آپ کی دائیں جانب ایک بچہ ہے، اور بائیں جانب صحابہٴ کرام ہیں، آپ ﷺ نے اس بچے سے اجازت چاہی کہ اگر تم اجازت دو تو میں یہ مشروب ان بڑے حضرات کو عنایت کروں، اس بچے نے کہا، ہر گز نہیں، قسم بخدا میں (آپ کے تبرک میں) اپنے حق پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اسے تھمادیا-
زمانہٴ جاہلیت میں عرب لڑکی کی پیدائش کو اپنے لیے عارسمجھتے تھے، آپ ﷺنے لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ کیا، لڑکیوں کے اکرام کی تعلیم دی، اس کی تربیت اور اس پر خرچ کی تلقین کی، لہٰذا آپ علیہ السلام نے فرمایا: جس نے دو لڑکیوں کی بالغ ہونے تک پرورش کی، قیامت کے دن میں اور وہ ایک ساتھ ہونگے-
آپؐ کا معمول تھا کہ جب کبھی سفر یا غزوہ سے واپس تشریف لاتے تو پہلے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرہؓ کے لئے ضرور کھانے پینے کی کوئی چیز لا کر اُن کو دیتے تھے۔ حضور پاکؐ باہر سے تشریف لاتے اور سواری پر ہوتے تو راستے میں جو بچے مل جاتے اُنہیں اپنے ساتھ آگے پیچھے بٹھا لیتے تھے۔ ایک غزوہ میں چند بچے جھڑپ میں آ کر مارے گئے۔ حضورؐ نے اُن کا بہت غم کیا۔ کسی صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! وہ مشرکوں کے بچے تھے۔ حضورؐ نے فرمایا "خبردار بچوں کو قتل نہ کرنا۔ خبردار بچوں کو قتل نہ کرنا۔ ٓپؐ کسی ماں کو دیکھتے کہ اپنے بچے کو پیار کر رہی ہے تو بہت متاثر ہوتے۔ ماؤں اور بچوں کی محبت کے قصے سُنتے تو فرماتے"جسے اللہ اولاد کی محبت دے اور وہ اولاد کا حق بجا لائے وہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہے گا"۔
الغرض آپ ﷺنے اپنے قول وعمل سے معاشرہ کے ایک کمزور طبقہ پر رحم وکرم کے عجیب وغریب نمونے پیش فرمائے، آنے والی امت کو تلقین کی کہ اس طبقہ کا لحاظ کرو، ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے پرہیز کرو؛ کیونکہ یہی بچے مستقبل کے اثاثہ ہیں، ان بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک ان کی صحیح انداز میں تربیت روشن وتابناک مستقبل کی ضامن ہوگی، ابتدائی مراحل میں بچوں کے ساتھ بے اعتنائی وبے احتیاطی بچوں کے لیے غلط راہیں فراہم کریں گی، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا 
خاتمہ کر کے سیرتِ طیبہ کی روشنی میں بچوں کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔



No comments:

Post a Comment