''ربیع الاول نثری تحریر''
تحریر : آسیہ مانو
روک لیتی ہے آپکی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
یہ کرم ہے حضور کا ہم پر آنے والے عذاب ٹلتے ہیں
یہ کرم ہے حضور کا ہم پر آنے والے عذاب ٹلتے ہیں
اس شعر کی حقیقت مجھ پہ اپنے دورِجاہلیت اور عہدِ غفلت کے بعد کھلی۔اس سے پہلے کشتی ہستی جیسے سمندرِزیست میں بیچ منجدھار ڈول رہی تھی۔اس عہدِ خراباں میں جب میں صرف کلمہ گو مسلمان تھی۔نظریں حیاتِ طیبہ کی کرامات پڑھتی تو تھیں مگر محبت کمی ایمان کو وہ پختگی نہ عطا کر سکی جو کہ مسلمانیت کا تقاضا تھی۔ایک صالح انسان کی راہنماٸی مجھے ہدایت کے راستے پر لے گٸ۔جس نے پہلی بات یہی سمجھاٸی کہ تم میں سے کوٸی ایمان والا اس وقت تک نہیں ہو سکتا۔جب تک میں اسے اپنے آبا اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں ۔ سرورِکاٸنات کی محبت دل میں بسانے کی کوشش کی تو بہت سے اور معاملات لاٸقِ توجہ اور مرکزِنگاہ بنتے مگر محبت کی یہ منزل سر نہ ہونے پاٸی۔یہی سبق سیکھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے محبت کریں پھر محبت ہو جاٸے گی۔اور یہ ہمارا کمال نہیں کہ ہم ان سے محبت کریں ۔یہ ان کی عنایت ہےکہ اگر وہ انسان کے دل میں اپنی محبت ڈال دیں۔
واصف علی واصف کا قول ہے“حضورﷺ کا ذکر۔۔۔وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کی روحیں پیدا ہونے سے پہلے حضورﷺ کی محفل میں پرورش پاکے آٸی ہوں۔”
جب نبی جی سے محبت کی تو پتہ چلا کہ اصل غایتِ زندگی تو یہی ہے۔باقی سب تو تماشاٸے زندگی ہے۔یوں لگا حیات کی گرہیں کھلتی چلی گٸیں۔عقدےوا ہوتے گٸے۔شکوے مٹتے گٸے۔عنایتیں بڑھتی گٸیں۔ان کی محبت نے زندگی صحرا سے گلزار بنا دی۔وہ یوں حالِ دل اور حالتِ زندگی سے واقف ہوتے گٸے۔کہ ہر درد کا درماں ہو گٸے۔خود آقا جیﷺنے فرمایا۔میں تم میں سے قیامت تک اپنے ہر امتی کو ایسے دیکھتا ہوں جیسے میرے ہاتھ کی ہتھیلی۔۔۔۔کتنا تسکین بخش احساس تھا کہ وہ اپنے ہر امتی سے واقف ہیں ۔سب کی پکار اور دعاٸیں سنتے ہیں۔وہ مجھ جیسی گنہ گار امتی کے نام اور حال سے بھی بےخبر نہیں ہوں گے۔یہ احساس کتنا طمانیت بخش ہوتا ہےکہ کوٸی ہمیں جانتا ہےعزیز رکھتا ہے فکر کرتا ہے ہماری۔دل ان کی محبت کا اور گرویدہ ہوتا گیا۔وہی درود شریف جو ایک معمول کی طرح وردِ زبان رہتا تھا۔اب کلمہ محبت بننے لگا۔سرشاری وتقویت دینے لگا ۔ڈپریشن ایک ایسا عارضہ زندگی ہے کہ ہم علاج کروانےاور دواٶں کی کثرت کے باوجود اس سے نجات نہیں پاتے۔جبکہ نبی جی کا نام ہی دافع ہر بلا اور شافع ہر بیماری ہے۔انھوں نے خود فرمایا۔۔۔۔تم میں سے جب کسی پر غموں کی کثرت ہو جاٸےتو اسے چاہیے کہ کثرت سے مجھ پر درود بھیجے۔
مجازی محبوب ہو تو انسان اس کا نام لیتے نہیں تھکتا۔اس کے اوصاف بیان کرتے سیر نہیں ہوتا۔نبی جیﷺ تو محبوبِ پروردگار ہیں۔وجہ وجودِ کاٸنات ہیں۔تو ایسے محبوبِ ربانی سے ہم جیسے عاصی محبت سے کیسے غافل ہو جاتے ہیں۔کیسے کفرانِ نعمت کر بیٹھتے ہیں۔ہمیں دنیاوی محبتیں تو نظر آجاتی ہیں کہ کوٸی ہمیں چاہتا ہے۔رو رو کر ہمارے لیے دعاٸیں مانگتا ہے۔ہمارا خیر خواہ ہے۔لیکن بے خبر ہیں تو اپنے نبی ﷺسےجو ساری ساری رات اپنی امت کی بخشش کے لیے دعاٸیں مانگتے تھے۔جو اپنی زندگی میں ہی جانتے تھے کہ ان کے عزیز از جان نواسے کو میدانِ کربلا میں خون سے نہلا دیاجاٸے گا۔اگر وہ چاہتے تو اپنی امت کی بجاٸےرو رو کر اپنے نواسے اور اپنی آل کی زندگی مانگ سکتے تھے۔کربلا کی تاریخ بدل بھی تو سکتے تھے۔قربان جاٸیں اس پیارے نبی ﷺ کےکہ قیامت کےدن جب ماں بچے کو بھول جاٸے گی اور ہر انسان نفسی نفسی پکارے گاتو میرے آقاجیﷺ تب بھی امتی امتی پکاریں گے۔ہم تو اس قابل نہیں کہ ان کی محبت کو دعوی کریں یا اس کا حق ادا کریں۔ہم سے کوٸی خطا ہو جاٸے تو انسان معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔یہ کیسا محبوبِ خدا ہے جو خادم کی بھی ایک دن میں ستر خطاٸیں معاف کرنے کو کہتا ہے۔جو ہر غلطی پہ شفاعت کا ضامن بن جاتا ہے۔قہرِ ربی کو عطاٸے ربی میں بدل دیتا ہے۔میرے الفاظ میں وہ دم نہیں کہ احساناتِ نبیﷺ کو بیان کر سکیں۔میرا ایمان ہے کہ روزِ قیامت وہ ہمارےضامن اور وکیل ہوں گے۔مگر ضروری امر یہ ہے اس دنیا میں کوٸی لمحہ بھی یادِ نبی ذکرِ نبی اور شکرِ نبی ﷺ سے خالی نہ ہو۔حیاتِ نبیﷺ کا ایک ایک اصول ہماری اس عارضی زندگی کو جاودانی میں بدل سکتا ہے۔انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی فردِ واحد ہو یا کاروانِ ملتخلوت ہو یا جلوت شبستان ہو یا خطہ ویران نبی ﷺ وہ چراغِ ہدایت ہیں جو ہر ظلمت کونور میں بدل دیتے ہیں۔منتہاٸے مقصد یہی ہے کہ
میں کیوں نہ تیرا شکر کروں بات بات میں
ہرسانس تیرے در سے ملی ہے زکوٰة میں
ہرسانس تیرے در سے ملی ہے زکوٰة میں
No comments:
Post a Comment